Wednesday, March 25, 2020

بے زمینی کا المیہ


ڈاکٹر علی عباس اُمید

Star Residency,Idgah Hills
BHOPAL-462001(M.P)
Mob:09200846045

           بے زمینی کا المیہ

فضا خاموش ہے!
سیاہ بادلوں کا قافلہ سُرخ رو ہو کر اس شہر سے ہجرت کر رہا ہے۔بچی کھچی نیم روشن آنکھیں ان پر جمی ہوئی ہیں۔ وہ خائف ہیں…اب یہ بادل نہ جانے کس بستی کو لہو رنگ کریں گے!
فضا خاموش نہیںہے!
ہوا کے دوش پر تیرتی ہوئی گرم خبریں بچے ہوئے کانوں میں پگھلے ہوئے شیشے کی طرح اُتر گئی ہیں‘سیاہ بادلوں کا قافلہ پھر اس شہر سے ہو کر گزرنے والا ہے…بچی کھچی سانسوں کے تسلسل میں خود بہ خود بے ربطی آنے لگی ہے۔
فضا خاموش ہے!!نیم بیدار اذہان آج ہمیشہ سے کہیں زیادہ استغراق میں ہیں‘پہلے تو بادلوں کے کئی رنگ ہوا کرتے تھے۔۔۔۔۔۔سفید،اودے،بھورے،کاسنی،چمپئی،نیلے لیکن اب۔۔۔۔صرف دو ۔۔۔۔۔۔سیاہ اور سُرخ۔۔۔۔۔۔۔سیاہ یعنی تاریکی‘سُرخ یعنی لہو رنگ۔ آخر کیوں ؟کہاں چلے گئے دل کے ساگر میں مسرت کی نرم رفتار موجیں اٹھانے والے خوش روبادل !روح کو سرشار کرنے والے رنگ‘آخر کیا ہو گیا ہے اب سیاہ چہرہ آنے والے بادل سُرخ رو ہو کر جانے لگے ہیں؟سیاہی کے سُرخی میں تبدیل ہونے والے لمحات اس بستی کے لئے دمِ واپسیں بن جاتے ہیں اور۔۔۔۔۔اور۔۔۔۔۔تاریکی ۔۔۔۔۔لہو آلودہ اندھیرا بن کر جاتا ہے ،اس کے مقدر میں بے جان وقت کا بد ترین احساس۔
فضا خاموش نہیں ہے!!! 
جسموں کے اُجڑے جنگل پر خاموشی کی تیز دھوپ نے اپنے سُلگتے ہوئے کھردرے پر پھیلا دیے ہیں۔ہر طرف ایک طلسمی دفائرہ مضبوط ہوتا جارہا ہے۔۔۔۔۔شعاعوں کے نیزے چاند جیسے جسموں کو پار کر چکے ہیں۔منجمد آوازیں یک لخت پگھلنے لگی ہیں ‘ اُجالا اپنا لباس تبدیل کر رہا ہے اور۔۔۔۔۔اور وہی سیاہی ،سیاہی کے حکم حاکم بہر حال بجا لانا ہے۔بچی کھچی خزاں کے رنگ دیواروں،دروازوں،محرابوں، کھڑکیوں اور طاقوں اسپِ وحشی انگارے اُگلنے والوں سُموں کے نشانات چھوڑ گئے ہیں۔ سمٹتی،بکھرتی، اُکھڑتی،سانسوں کا اب نہ کوئی بدن ہے نہ چہرہ۔۔۔۔۔دیر تک نظریں گڑائے رہنے کے بعد بینائی ایک ہیولے سے ٹکڑاتی ہے ،صرف ہیولے سے۔۔۔۔ اور کچھ بھی نہیں ،کہیں بھی نہیں۔
دیئے یادوں کے مدہم ہو چکے ہیں۔۔۔۔

جو گزرا ہے اسے یکسر بھلا کر 
ہم ۔۔۔۔آنے والے کل کو روچکے ہیں
سبھی کچھ کھو چکے ہیں۔۔۔۔
میں شاید مرچکا ہوں لیکن شاید نہیں‘ابھی کہاں! ابھی تو مہیب تنہائی قطرہ قطرہ کر کے مجھے پی رہی ہے۔۔۔۔۔۔میں سرد ہوں‘ایک دم یخ۔۔۔۔اور تنہائی نہ جانے کتنی تشنہ ہے‘کسی صورت بجھتی نہیں اس کی پیاس۔
اوہ‘یہ کیسی آواز ہے۔۔۔۔کون ہے یہ؟ یقینا کسی نے اپنے آنسوؤں کی سرکشی سے شکست قبول کر لی ہے ۔کوئی بھی ہو بہت قریب ہے ‘بالکل میرے پاس۔۔۔۔اُف ۔۔۔۔یہ تو میرے اپنے سینے میں چھپا کوئی دھیرے دھیرے گریہ کناں ہے ۔آنسو بہانے والا کوئی اجنبی تو نہیں !نہیں وہ تو آشنا چہرہ ہے ۔یادوں کے خار ذہن کو لہولہان کر کے دل کو پارہ پارہ کرنے لگے ہیں۔۔۔۔نہیں نہیں‘اب اور زخم نہیں! مجھے اپنے حافظہ کے دروازہ پر نا آشنائی کی تختی لگا لینی چاہئے ‘ممکن ہے یوں ہی عذاب میں تھوڑی سی کمی آسکے ۔اس عذاب میں جو انسانوں پر آدمیوں کا لایا ہوا ہے۔
آج پھر روشنی اداسی کا لباس پہن کر اس بستی میں داخل ہوئی ہے۔
میرے ذہن کی آنکھوں کی پلکیں ٹھہر گئی ہیں۔ہر سرد لمحے کا احساس میری پیشانی پر تیر جاتا ہے۔۔۔۔مجھے معلوم ہے مسلسل جاگنے والی آنکھوں سے خواب روٹھ جاتے ہیں‘یہ آنکھیں اسی لیے بے خواب ہیں‘اب رہا بھی کیا خواب دیکھنے کے لیے ۔۔۔۔راکھ کے ڈھیر میں شعلہ ہے نہ چنگاری ہے ‘دھند ہی دھند ہے اور نیند سے بیزاری ہے۔ 
اُس صبح‘ہاں اس خوشگوار صبح کو جب میں بیدار ہوا تھا تو شگفتگی نے میری نیم باز آنکھوں کو بوسے لیے تھے اور میں نے اس سے کہا تھا‘ مجھ سے مت پوچھ میرے خواب کی تعبیر ابھی ۔سچ مچ خواب تو دل کو چھو لینے والا تھا ‘نہ صرف خوبصورت بلکہ جینے کا حوصلہ دینے والا۔۔۔۔۔اس میں تھا ہی شہر‘اس کا شباب اور ہنستے کھیلتے
،دوڑتے، بھاگتے،اٹکھیلیاں کرتے انگنت شوخ لمحے اور۔۔۔۔۔اور وہ سب کچھ جو زندہ ہونے کا احساس دلانے کے لیے ضروری ہوتا ہے۔۔۔۔۔محبت،امن، بے نفسی، ایثار،ہمدردی، بے نیازی، قربانی اور بھی بہت کچھ جو کہ آدمی کو انسان بننے میں معاونت کر سکیں۔
خواب کل ہے اور تعبیر جُزو۔۔۔۔۔۔اس لئے اُس صبح میں نے شگفتگی کو تعبیر مان لینے کی خوش فہمی نہیں پائی، کسی کی شمولیت سے بھی باز رہا ۔اچھا ہی ہوا۔روح میں نغمگی اُتار نے والے اُس خواب کی روح فرسا تعبیر کون برداشت کر سکتا تھا!وہ بھی نہیں‘تم بھی نہیں‘کوئی بھی نہیں۔۔۔۔۔اُداسی کا لباس پہننے والی روشنی کا نزول بہر حال ہونا ہی تھا اور وہ ہو گیا ۔اس کی مایوس آنکھیں آہستہ آہستہ سُرخ ہوں گی اور پھر ہمیشہ کی طرح شعلوں میں بدل جائیں گی۔آسمان چھو لینے کی بھر پور کوشش کے بعد دھند ہو کر ماحول کو بے نور کر جائیں گی۔ میں‘ہاں میں سوچتا ہوں کہ اس شہر کو چھوڑ دوں۔۔۔۔لیکن کہیں کہیں کچھ آشنا چہرے دکھائی دے رہے ہیں۔کیا انھیں چھوڑ کر جانا خود غرضی (جو کہ اس عہد کی شناخت ہے )نہیں ہوگی ؟ مجھے یقین ہے کہ اداسی کا لباس پہننے والی روشنی پھر آئے گی اور ان کو بھی اپنی زد میں لے گی ۔اب شہر چھوڑنے کا میرا فیصلہ تذبذب کے مراحل سے دوچار ہے۔
اچانک مجھے احساس ہو نے لگاہے جیسے واگر کی کوئی سمفنی چھیڑ دی گئی ہو۔ ہاںمیں نے شہر چھوڑنے کا فیصلہ کر لیا ۔۔۔۔۔میں اپنے حافظہ کے دروازہ پر نا آشنائی کی تختی لگا رہا ہوں جیسے واگر کی سمفنی چھڑی ہوئی ہے ‘موسیقی قطرہ قطرہ میرے کانوں سے گزر کر دماغ میں جمع ہوتی جار ہی ہے۔۔۔۔۔دماغ‘ جس نے شہر چھوڑ نے کا فیصلہ کیا ہے!
کیا میں زندہ ہوں؟ کیا اس شہر کو چھوڑ کر میں زندہ رہ سکوں گا؟ کیا میںزندہ رہنا چاہوں گا؟زندگی کیا ہے‘ موت کیسی یا کہ سب کچھ فریبِ ہستی ہے !۔۔۔۔موسیقی تیز ہوتی جارہی ہے‘سوالات گردش کررہے ہیں۔موسیقی اور سوالات ایک دم گڈمڈ  ہوگئے ہیں ہوگئے۔۔۔۔سوالات۔۔۔موسیقی۔۔۔سوالات۔۔۔موسیقی۔۔۔سوالات۔۔۔موسیقی۔۔۔  اور صرف گردش۔
میری آنکھیں اتنی پھیل چکی ہیں کہ دونوں کناروں سے خون رسنے لگا ہے۔اب تو ان میں نہ اداسی کا ملبوس پہننے والی روشنی کا عکس ہے نہ ہی شب چہرہ بادلوں کی شبیہہ
فضا خاموش ہے!
فضا خاموش نہیں ہے!!
میں نے فیصلہ کر لیا ہے! میں نے فیصلہ نہیں کیا ہے!!
میں اس شہر کو چھور دوں گا!
میں اس شہر کو نہیں چھوڑوں گا!!
٭٭٭     
Previous Post
Next Post

0 comments: