Wednesday, March 25, 2020

علامہ کاروباری کا روزہ


منظور وقار (گلبرگہ)

Yadullah Colony,
 Gulbarga-585104
 (Karnataka).موبائیل: 

             علامہ کاروباری کا روزہ


ماہ رمضان المبارک جونہی قریب آنے لگتا ہے علامہ کاروباری ماہ شعبان سے ہی اپنی نت نئی بیماریوں میںسے ایک عدد بیماری کا انتخاب کرکے علاج شروع کردیتے ہیں رمضان کے مہینے میں سر جھکائے ،منہ لٹکائے ہونٹ سکھائے لاغری اور نقاہت کی تصویر بن کر یوں گھومنے لگتے ہیں کہ انہیں دیکھ کر لگتا ہے شہر میں اگرکوئی روزہ دار ہے تو وہ صرف علامہ ہی ہیں ۔حقیقت تو یہ کہ علامہ کے لئے روزہ رکھنا اتناہی دلیری کا کام ہے جتنا اپنی بیگم صاحبہ کو روزہ رکھنے کا مشورہ دینا ۔علامہ روزہ نہیں رکھتے ہوئے بھی روزہ دار جیسا حلیہ بنائے شہر میں گھومتے ہیں چائے کی ہوٹل یا کسی تلن گھر میں داخل ہونے سے پہلے ادھر ادھر دیکھ لیتے ہیںکہ ان کا کوئی شناسا انہیں دیکھ تو نہیں رہا ہے ؟
ماہ رمضان میں علامہ سے جب ان کا کوئی دوست سوال کرتا ہے کہ ’’علامہ! آپ کے روزے کیسے گزرہے ہیں ‘‘
تو علامہ صد فیصد روزہ دار کا چہرہ بناکر جواب دیتے ہیں ۔’’اللہ کافضل ہے ‘‘۔
جب ان کادوست دوسرا سوال کرتا ہے ’’علامہ اس بار گرمی کی شدت ناقابل برداشت ہے ۔اس گرمی میں روزہ رکھنا کیا دل گردے کاکام نہیں ہے ؟‘‘
علامہ اس سوال کا جواب یوں دیتے ہیں ۔’’جناب !جب آدمی ایک بار روزہ رکھنے کی نیت کر لیتا ہے تو اس کے سامنے دھو پ کی گرمی کیاچیز ہے ۔آگ کی لپیٹیں بھی کوئی معنیٰ نہیں رکھتیں۔‘‘
جب ان سے کوئی شخص اس طرح راست سوال کرتا ہے ’’علامہ کیا آپ روزے میں ہیں ؟۔‘‘
علامہ اس طرح کے راست سوال کا ایک مبہم سا جواب یوں دیتے ہیں ‘‘۔ہاں میں روزے میں ہوں؟‘‘۔
یہاں روزہ میں ہوں سے علامہ کی مراد محلہ روضہ بزرگ سے ہوتی ہے کیونکہ علامہ روضہ بزرگ میں جو رہتے ہیں …غرض علامہ اس قدر چالاک اور حاضر جواب ہیں کہ ان کی چالاکی اور حاضر جوابی کے آگے ہمارے ملک کے بڑے بڑے لیڈر بھی شرما جائیں ۔
جب کوئی علامہ کو ’’لسی‘‘پیتے ہوئے یا ’’مال پوری کھاتے ہوئے رنگے ہاتھوں پکڑ لیتا ہے تو علامہ کھٹ کے ساتھ جیب سے تین عدد کیپسل اور تین عدد گولیاں 

نکال کر دکھائیں گے ۔اور کہیں گے ’’روزہ رکھنے کا پورا پورا ارادہ تھا ۔کم بخت بیماری نے مجھے کہیں کا نہ رکھا ڈاکٹر کی ہدایت ہے دن میں تین وقت دوائی بلاناغہ لی جائے ۔‘‘
ایک دن ہم نے علامہ کو سوپر مارکیٹ میں ایک دھنی سیٹھ کی جانب سے نکڑ پر رکھے گئے مٹکے کاپانی پیتے ہوئے پکڑ لیا تو علامہ سپٹا کر پیشانی پر نمودار پسینے کے قطروں کو صاف کرتے ہوئے جیب سے تین عدد کیپسول اور تین عدد گولیاں نکال کر اپنا مخصوص ڈائیلاگ دہرانے والے ہی تھے کہ ہم نے کہا’’ علامہ اپنے تین عدد کیپسول اور گولیوں کو جیب ہی میں رکھو اب تو پورا شہر جان چکا ہے کہ آپ کا علاج جاری ہے۔ڈاکٹر نے آپ کو دن میں تین وقت بلاناغہ دوائی لینے کی ہدایت دے رکھی ہے۔‘‘
علامہ ہمارے طنز کو سمجھ کر قدرے ناراض ہوکر بولے’’ وقار !تمہاری باتوں میں تمسخر کی بو آرہی ہے۔کیا میرے چل رہے علاج پر تمہیں شک ہے…؟ہم سے اس بار نہیں رہا گیا۔ہم اُبل پڑے ۔’’ علامہ! ہاتھ بھر لمبی داڑھی رکھ کر جھوٹ بولتے ہوئے شرم نہیں آتی۔دراصل روزہ رکھنے سے آپ اس بات کا خوف ہے کہ کہیں آپ کی سانڈ جیسی جسامت پگھل نہ جائے۔‘‘ آپ کوروزے کی عظمت سے زیادہ اپنی صحت عزیز ہے فضول میں ہزاروں بہانے کیوں تلاش کرتے ہو ۔‘‘
علامہ کو ہماری کھری کھری باتیں شایدبری لگیں بولے ’’ہاں ! میں روزہ نہیں رکھتا لیکن روزہ رکھ کر دوسروں کی طرح غیبت نہیں کرتا ، دھوکہ نہیں دیتا ،عورتوں پر بری نظریں نہیں ڈالتا ۔‘‘
ہم نے کہا۔’’علامہ آپ روزہ داروں میں جن برائیوں کو ڈھونڈرہے ہیں کیا آپ میں یہ برائیاں اورکمزوریاں نہیں ہیں ؟۔‘‘
علامہ نے ترکی بہ ترکی جواب دیا’’مجھ میں برائیاں ہوںیا نہ ہوں اس سے کیا فرق پڑتا ہے ؟میں تو روزہ ہی نہیں رکھتا ۔ہاں میں رات کا روزہ دار ہوں یعنیٰ رات ہی کو میرا منہ میری آنکھیں اور میرے کان بند رہتے ہیں ۔دن بھر تو میں جگالی کرتے پھرتا ہوں ‘‘۔
ہم نے غیرت دلاتے کہا ’’علامہ کیوں اس قدر چکنے گھڑے بنے ہوئے ہو۔خدا سے ڈرو ایک دن اس کے سامنے جواب دینا ہے روزہ ایک مقدس
نعمت ہے جس کا لطف صرف روزہ دار ہی محسوس کرسکتا ہے ۔تم جیسے چکنے گھڑوں کو بھلا روزے کی اہمیت کیا معلوم ‘‘۔
ہمارے طنز کا تیر شاید علامہ کے سینہ میں اتر گیا ان کی غیرت اچانک جاگ اٹھی اور آنکھ میں آنسو لاکر بولے وقار میں بہت بڑی بھول کررہا تھا۔اچھا ہوا تم نے میری غیرت کو جگا دیا ۔انشاء اللہ کل میں روزہ رکھوں گا۔‘‘علامہ نے ہمیں پابند کرتے ہوئے کہا ’’وقار تم فجر کی نماز کیلئے مجھے ضرور جگانا کیونکہ میں سحری گھٹ اور فجر چٹ کا آدی ہوں ۔
علامہ روزہ رکھنے کے بعداس قدر چڑ چڑے اور جھگڑالو بن جائیں گے ہمیں اس کا اندازہ نہیں تھا ۔خیر ہم حسب وعدہ صبح ساڑھے پانچ بجے علامہ کے مکان پر پہنچے دو تین بار آواز لگانے کے بعد علامہ ہڑ بڑا کر اٹھے گھڑی دیکھی نماز کاوقت قریب تھا جلدی جلدی شیروانی پہنی پیر میں چپل ڈالے ’’توبہ توبہ تھو تھو !استغفراللہ استغفراللہ !نیند کا غلبہ بھی بڑا برا ہوتا ہے ‘‘۔کہتے ہوئے ہمارے ساتھ مسجد کی جانب تیز تیز قدم بڑھانے لگے راستے میں ایک کتے کو پتہ نہیں کیا سوجھی وہ علامہ کو دیکھ کر بھونکنے لگا علامہ کے غصے کی پہلی قسط ان کے سر پر چڑ گئی ۔وہ خود بھی کتے پر بھونکنے لگے ’’۔بدمعاش کمینہ کتا کہیں کا صبح صبح کیا تیرا دماغ خراب ہو ا ہے تجھے چھوٹے بڑوں کا خیال نہیں روزہ داروں کا احترام بھی تجھے نہیں معلوم بس شیروانی دیکھا کہ لگا حزب مخالف لیڈروں کی طرح حلق پھاڑنے اور ہماری طرف دیکھ کر بولے ’’بڑا بدتمیز اور مذہب بیزار کتا ہے ۔‘‘
ہم نے جواب دیا ’’علامہ کتا آخر کتا ہے وہ جن لوگوں کو دیکھ کر بھونکنا چاہتا ہے بھونک کرہی رہے گاآپ کیوں صبح صبح کتے سے جھگڑا مول لے رہے ہیں !جب کہ نماز کا وقت قریب ہے ‘‘
علامہ نے پھر گھڑی پر نظر ڈا لی اور بڑبڑانے لگے ’’توبہ توبہ تھوتھو شیطان ہمیشہ نیک بندوں کے راستوں میں کبھی کتا کبھی بِلا کبھی بلی بن کر حائل ہوتا ہے ‘‘پھر تیزتیز قدم بڑھاتے ہوئے مسجد میں داخل ہو کر جلدی جلدی وضو کرنے لگے علامہ کے بغل میں ایک دس بارہ برس کا بچہ بیٹھا وضو کررہا تھا علامہ وضو کرتے ہوئے اس قدر پانی اچھال رہے تھے کہ اس بچہ کا لباس گیلا ہوگیا بچہ بھی بلا کا منہ زور تھا کڑک کر بولا ’’علامہ ڈھنگ سے وضو کیجئے گا کیا مجھے نہلانے کا ارادہ ہے‘‘۔
علامہ کے سر پر پچاس فیصد پارہ چڑھ گیا وہ بھڑک اٹھے ’’ابے لونڈے مجھے وضو کرنا سکھاتا ہے بالشت بھر کاچھوکرا اوراتنی لمبی زبان تجھے مسجد میں آنے کس نے دیا جماعت ٹھہرنے والی ہے ورنہ تجھے زبان درازی کا مزہ چکھا دیتا گرما کا موسم ہے چند قطرے پانی جسم پر گر بھی گیا تو ٹھٹھر تھوڑے ہی جائے گا ‘‘
منہ زوربچہ اپنے سے کئی گنا زیادہ منہ زور انسان کو دیکھ کر دب گیا نماز کے بعد مکان جاتے ہوئے علامہ نے ہم سے کہا ٹھیک گیارہ بجے (دن )مجھ سے ملنا بازار جاناہے کپڑے خریدنے ہیں ‘‘ہم ٹھیک گیارہ بجے علامہ کے مکان پر پہنچے علامہ اپنے گھر سے سکینڈ  ہینڈ موٹر سائیکل نکالی ہمیں پیچھے بٹھا کر بازار کی جانب روانہ ہوئے ابھی ایک فرلانگ کا فاصلہ بھی طے نہیں ہوا تھا کہ علامہ ایک آٹھ دس برس کے بچہ کو کچلتے کچلتے رہ گئے 
بچہ زمین پر گر پڑا،ہاتھ پیر پر لگی ہوئی دھول اور مٹی صاف کرتے ہوئے بولا ’’علامہ ! کیا آج آپ لوگوں کی جان لینے کے ارادے سے باہر نکلے ہیں ۔۔۔‘‘
دیکھنے میں معصوم نظر آنے والے بچے کی زبان سے اس طرح کا طنزیہ جملہ علامہ نے سناتو علامہ کے سر پر غصہ کا پارہ تالو تک چڑھ گیا۔وہ بچے پر قہر بن کر برس پڑے بولے’’بے لگام ! بد تمیز چھوکرا ! ڈھنگ سے چلنا بھی نہیں آتا مگر قینچی کی طرح زبان چلاتا ہے ۔روز ہ دار ہوں ورنہ آج تیری زبان حلق سے نکال دیتا ۔
علامہ کو بچے پر برستے ہوئے دیکھ کر راہ گیر جمع ہونے لگے ۔ایک نے کہا۔۔۔’’جانے دیجئے علامہ بچہ معصوم ہے ‘‘
علامہ اس پر جیسے پھٹ پڑے ’’بچہ اگر اتنا ہی معصوم اور پیارا ہے تو اسے گود کیوں نہیں لیتا ۔اس طرح روزہ دار وں کو پریشان کرنے کے لئے سڑک پر کیوں چھوڑ رکھا ہے ؟‘‘
بیچارہ راہ گیر علامہ کا جواب سن کر پانی پانی ہوگیا …علامہ کی حالت دھوپ کی شدت سے تپتے ہوئے ریگستان کی طرح ہوگئی تھی ۔وہ موٹر سائیکل دیوانہ وار دوڑانے لگے۔ موٹر سائیکل ایک گڑھے میں اترنے ہی والی تھی کہ ایک راہ گیر نے علامہ کو چوکنا کرانے کے لئے آواز لگائی ’’علامہ سنبھل کے آگے گڑھاہے ‘‘ علامہ نے فوراََگاڑی کو بریک لگا کر دیکھا تو سامنے واقعی خطرناک گڑھے کو پایا ۔پہلے تو وہ سٹپٹائے پھر اپنی پشیمانی چھپانے کے لیے راہ گیر کو ڈانٹنے لگے ۔میں اندھا نہیں ہوں جو لونا کو گڑھے میں اُتار دیتا ۔میں بریک لگانے والا ہی تھا کہ تم نے خواہ مخواہ کی ہو شیاری دکھائی ‘‘پھر ہماری طرف دیکھ کر بولے ’’میں روزہ دار ہوںتو اس کے معنی یہ نہیں کہ میں اپنے ہوش ہی کھو بیٹھا ہوں ‘‘راہ گیر شرمندہ ہو کر آگے بڑھ گیا۔
علامہ بڑبڑاتے ہوئے لونا دوڑانے لگے ‘‘توبہ توبہ تھوتھو…کیسے کیسے نمانے شہر میں بسے ہیں خود تو روزہ رکھتے نہیں الٹا روزہ داروں کو پریشان کرتے رہتے ہیں ۔بازار میں پہنچے تو گاڑی کو ایک ہول سیل کپڑے کی دکان کے قریب روک دیا اور ہمیں لے کر دکان میں داخل ہوئے۔ دکان میں کافی بھیڑ تھی ۔علامہ ایک کاؤنٹر پر جہاں نوجوان سیلزمین کھڑا تھا پہنچے اور نوجوان کو حکم دیا کہ وہ اچھے سستے اورمضبوط کپڑے دکھائے ۔نوجوان بولا ’’علامہ زنانہ کپڑے دکھاؤں یا مردانہ ‘‘
 علامہ بجھتے ہوئے چراغ کی طرح بھڑ ک اٹھے ۔ا رے او نالائق ! کیا میں تجھے خاتون نظر آرہا ہوں کم بخت مردانہ کپڑے دکھا ۔‘‘
نوجوان سہم کر ڈھیر سارے مردانہ کپڑے علامہ کے آگے ڈال دیا ۔اس ڈھیر میں سے علامہ نے اپنے لئے دو عدد شیروانیوں اور بچوں کے لیے چھ جوڑ کپڑوں 
کا انتخاب کرکے قیمت دریافت کی نوجوان سیلز مین نے قیمت بتائی تو علامہ بارود کی طرح پھٹ پڑے ۔نام ہول سیل کلاتھ سنٹر اور دام خدا کی پناہ توبہ توبہ تھوتھو!یہ کپڑے کی دکان ہے یا ٹھگوں کا اڈہ ‘‘باہر نکلتے ہوئے بولے ‘‘۔چلو وقار ! یہاں تو اندھیرنگری ہے مجھ جیسے روزہ دار کی جیب کاٹنے میں بھی لوگ عار نہیں سمجھیں گے ۔اس طرح علامہ آٹھ دس دکانوں میں جاتے رہے اور سیلز مینوں اور دکان مالکوں سے اُلجھ کر ہاتھاپائی کی نوبت بھی لاتے رہے ۔اس کا اثر یہ ہوا کہ علامہ جس دکان میں بھی داخل ہونا چاہا اس دکان کا مالک دروازے پر آکر معذرت طلب کرنے لگا کہ آپ کی پسند کے کپڑے ہماری دکان میں نہیں ہیں ۔آخر علامہ نے فٹ پات پر لگی کپڑے کی دکان سے کپڑے خرید لیے واپس مکان پہنچے ابھی دروازے میں داخل ہی ہوئے تھے کہ علامہ کے تین پوتے دادا جان آگئے دادا جان کپڑے لے آئے ’’کہتے ہوئے علامہ سے لپٹ گئے ۔
علامہ کا دماغ غصے کی شدت سے گرم ہوگیا تھا ۔بچوں کے گالوں پر تھپڑ مار کر بولے گھر میں قدم بھی رکھنے نہیں دیتے بد تمیز بچے دادی جان نے لاڈ پیار کرکے بچوں کو دو کوڑی کا بنا دیا ہے ۔گھر میں داخل ہوتے ہی علامہ نے بیگم کو آواز لگائی اری و زہرہ افطار کے لیے کھجور لیمبو اور برف منگایا کی نہیں ۔زہرہ بی کو اپنے شوہر کی پکارنے کا اندازہ نا گوار گذرا بولیں اجی دن بھر کہاں مر گئے تھے کھجور لیمبو اور برف لانے کیا گھر کی خواتین بازار چلی جاتیں ۔علامہ کو اپنی بیوی کی زبان درازی پسند نہ آئی چپل اٹھا کر بیوی پر پھینک مارا اور بولے’’تیری زبان بہت تیز چلنے لگی ہے ذرا افطار تو ہونے دے طلاق دے دوں گا ۔‘‘زہرہ بی نے بھی تابڑ توڑ جواب داغا طلاق ہی دینا تھا تو اتنے برس کیوں انتظار کیا پہلے ہی طلاق دے دیتے تو ملک کی آبادی میں ہم دونوں اس قدر اضافہ تو نہ کرتے اتنا سنا تھا کہ علامہ کاغصہ عروج پر پہنچ گیا سامنے پانی سے بھری ہوئی بالٹی تھی ۔علامہ نے بالٹی کو ایک لات ماری پانی فرش پر بہہ گیا تو خالی بالٹی اٹھا کر بیوی کے سر پر مارنے ہی والے تھے کہ لڑ کھڑا کر ایسا بے سدھ ہوکر گر پڑے کہ افطار کے وقت منہ میں پانی ڈالنے کے بعد ہی انہیں ہوش آیا ۔علامہ کو ہوش آتے ہی بچے خوشی سے تالیاں بجانے لگے کہ دادا جان زندہ ہوگئے دادا جان زندہ ہوگئے ۔اڑوس پڑوس کی خواتین گھبرا کر بھاگ گئیں !!!٭٭٭
Previous Post
Next Post

0 comments: