Tuesday, January 15, 2019

حمد و مناجات کی ادبی ودینی حیثیت

حمد و مناجات کی ادبی ودینی حیثیت

ادب میں ’’حمد و مناجات‘‘ شاعر ی کی ایک صنف ہے۔ جس طرح شاعر ی میں  نعت کا موضوع نبی کریمﷺ کی ذات مبارکہ کی مدح و توصیف ہے  اسی طرح ’’حمد‘‘ اللہ جل شانہ کی ذات کی مدح و توصیف، ستائش، تحسین، تمجید اور شکر گزاری ہے۔ یہ اصطلاح شاعر ی ہی کے  لئے  مخصوص نہیں  ہے  نثر میں  بھی حمد کہی جاتی ہے۔ زبان سے  بھی حمد و ثنا بیان ہوتی ہے  اور دل ہی دل میں  اللہ تبارک و تعالیٰ کو یاد کرنا بھی ’’حمد‘‘ ہے۔ 
مناجات عربی لفظ نجویٰ سے مشتق ہے جس کی معنی سرگوشی کے  ہیں۔ مناجات کا مفہوم سرگوشی میں  اللہ سے  دعا کرنا۔ اپنے  دل کا حال بیان کرنا، اپنی ضرورت کے  پورا ہونے  کی آرزو کرنا اور اپنے  لئے  نجات اور دنیا و آخرت کی کامیابی کا چاہنا ہے۔ شاعر ی میں  مناجات کا مفہوم ’’دعائیہ نظم‘‘ ہے۔ جس میں  بندہ اللہ تعالیٰ سے  اپنی حاجات اور ضروریات کا ذکر کر کے  اس کے  پورا ہونے  کی التجا کرتا ہے۔ حضرت مولانا اشرف علی تھانوی نے دعاؤں کی جو کتاب مرتب کی ہے  اس کا نام ’’مناجات مقبول‘‘ رکھا ہے۔ الطاف حسین حالیؔ نے  ایک بیوہ کی منظوم فریاد لکھی ہے  اس کا نام ’’مناجات بیوہ‘‘ رکھا ہے۔ 
اردو شاعر ی میں نعت گوئی کے  مقابلے  میں حمد و مناجات کا رواج کم رہا ہے۔ اردو ادب میں  نعتیہ شاعر ی کے  بے  شمار مجموعے  دستیاب ہیں۔ نعت گوئی کی وجہ سے  بعض شعرا مستقل طور پر نعت گو شعرا کہلاتے  ہیں۔ قدیم و جدید نعتیہ شاعر ی کے  مجموعے  گلدستے  اردو کے  علاوہ عربی اور فارسی کے  منتخبات شائع ہوتے  رہتے  ہیں۔ ابھی حال ہی میں  مراٹھی شاعر سریش بھٹ کی مراٹھی نعت کے  نہ صرف اردو منظوم تراجم شائع ہوئے  بلکہ اس پر تجزیاتی مضامین بھی لکھے  گئے۔ فن نعت گوئی پر کئی کتابیں  شائع ہوئیں۔ اس کی ابتدا، ارتقا، تعریف، موضوع، فضیلت، لوازمات اور شرائط وغیرہ کے  تحت نعت گوئی پر ایک بہت بڑا اور کافی مواد موجود ہے۔  ہر تقریب میں تلاوت قرآن کے  بعد مترنم آواز میں  نعت خوانی کا عام رواج ہے۔ عربی مدارس کے  اجلاس میں بھی تلاوت کے  بعد بچوں  سے  نعت خوانی کروائی جاتی ہے۔ حمد کے  لئے 
تلاوت قرآن ہی کو کافی سمجھا جاتا ہے۔ نعت کی بہ نسبت حمد و مناجات کم تو کہی گئیں۔ اس موضوع پر بہت کم لکھا بھی گیا۔ 
(جہان نعت کا حمدومناجات نمبر ،مرتب داکٹر غلام ربانی فداؔ)
نعت گوئی پر ڈاکٹر سید رفیع الدین اشفاق نے  ایک کتاب تحریر کی ہے۔ ڈاکٹر محمد   اسماعیل آزاد فتح پوری نے  ’’اردو شاعر ی میں  نعت گوئی‘‘ پر مقالہ لکھ کر پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی ہے  اور مقالے  کو دو جلدوں میں  شائع بھی کیا ہے۔ نعت گوئی پر ڈاکٹر سید یحییٰ نشیط کی ایک کتاب پاکستان سے  شائع ہے۔ انھوں  نے  حمد و مناجات پربھی بہت وقیع کام کیا ہے۔ جامعہ قاسمیہ مدرسہ شاہی مراد آباد کے  دینی اور اصلاحی رسالہ کا بہت ضخیم ’’نعت النبیﷺ‘‘ نمبر شائع ہوا۔ اس میں  حمد و مناجات پر بھی چند صفحات مختص کئے  گئے  ہیں۔ 
یہاں حمد و مناجات اور نعت گوئی کا تقابل نہیں  ہے  صرف یہ واضح کرنا ہے  کہ نعتوں  کی بہ نسبت شعرا نے  حمدیں  اور مناجاتیں  کم کہی ہیں۔ دراصل حضور ا کرمﷺ کی ذات مبارکہ سے  شاعر کی عقیدت اور والہانہ جذبۂ محبت اس بات پر مجبور اور بے  قرار کر دیتا ہے  اور وہ حضورﷺ کی شان میں کچھ کہے  بغیر رہ نہیں  سکتا۔ اس کے  علاوہ نعت کا میدان بہت وسیع ہے  نعت کہنے  میں  بہت گنجائشیں  ہیں  اس میں  کئی طرح کے  عنوانات اور پہلو نکلتے  رہتے  ہیں۔ 
 ’’حمد و مناجات‘‘ کا موضوع شاعر ی سے زیادہ مذہبی موضوع ہے۔ حمد کا تعلق اللہ جل شانہ کی ذات سے  ہے  اور اللہ نے  اپنی حمد و ثنا کرنے  کا بندوں  کو حکم دیا ہے۔ چنانچہ فرمایا کہ ’’اے  ایمان والو کثرت سے  اللہ کا ذکر کرو۔ ‘‘ حضور ا کرم ﷺ اور آپ سے  قبل جتنے  بھی انبیاء اس دنی امیں  تشریف لائے  ان سب کی بعثت کا مقصد یہی ہے  کہ وہ اللہ کی عبادت اور اس کی حمد و ثنا کا پیغام بندوں  تک پہنچائیں۔ فرمایا کہ ’’آپ اللہ کی بندگی اور اس کی حمد و ثنا کا پیغام بندوں  تک پہنچائیں۔ ‘‘ آپﷺ نے  یہ پیغام بخوبی بندوں  تک پہنچا دیا اور فرمایا کہ انسان کی زندگی کا مقصد خدا کی عبادت ہے  اور خدا کی عبادت اس کی حمد و ثنا ہے۔ خود آپﷺ کی زندگی سراپا ’’حمد ‘‘ ہے۔ زندگی کا ایک ایک عمل، قول و فعل ’’حمد‘‘ ہے۔ اللہ کی مقدس کتاب قرآن کا آغاز بھی ’’حمد‘‘ ہے۔ اس کا اختتام بھی ’’حمد‘‘ ہے۔ کلمۂ طیبہ لا الہ الا اللہ  جس کے  پڑھے  بغیر اور جس کا اقرار کئے  بغیر اور اس پر ایمان لائے  بغیر کوئی بندہ مومن نہیں  ہو سکتا یہ کلمہ بھی ’’حمد‘‘ ہے۔ اس میں  بندہ کا یہ اقرار کرنا کہ خدا کے  سوا کوئی معبود نہیں، کوئی پالنے  والا، جلانے  والا اور مارنے  والا نہیں۔ وہی قدرت والا ہے، قوی ہے  اور ہر چیز  پر قادر ہے  ہر چیز کا مالک ہے۔ یہ اقرار بھی خدا کی بڑائی اور اس کی حمد و ثنا ہے۔ حمد عبادت ہے  اس سے  بندوں  کو مفر نہیں۔ ’’حمد‘‘ اسلام کی روح ہے۔ عبادت کی روح ہے  اس کے  بغیر ہر عبادت مردہ اور 
بے  جان ہے۔ ’’حمد‘‘ بندوں  کی نجات کا سبب ہے  اللہ کی رحمت کے  دروازے  اسی سے  کھلتے  ہیں۔ بندوں  کی نجات کا وسیلہ ہے  اور دنیا و آخرت کی کامیابی کا انحصار اسی پر ہے۔ 
حمدومناجات نمبر ناگپور
انسان کی زندگی کا کوئی عمل اور کوئی لمحہ حمد سے  خالی نہیں۔ نماز، تلاوت قرآن، کھانا، پینا، سونا، جاگنا اگر سنت طریقے  کے  مطابق ہیں  تو سب ’’حمد‘‘ ہے۔ سبحان اللہ، الحمد لللہ، ماشاء اللہ، اللہ اکبر اور اس طرح کے  کلمات جو ہر مسلمان کی زبان پر رہتے  ہیں  ’’حمد‘‘ ہی ہیں۔ بندے  کا کسی کام کے  کرنے  کا ارادہ کرتے  وقت انشاء اللہ کہنا ’’حمد‘‘ ہے۔ بندہ اس وقت یہ اقرار کرتا ہے  کہ میرے  ارادہ سے  کچھ نہیں  ہو گا۔ اللہ قادر مطلق ہے  وہ اگر چاہے  گا تو یہ کام ہو جائے  گا۔ 
اللہ نے  عبادات کے  لئے  اوقات مقرر کر دئیے  ہیں۔ انہی اوقات میں  ان عبادات کو کیا جا سکتا ہے۔ ان کو ممنوع اوقات میں کرنا مکروہ ہے۔ لیکن حمد و ثنا اور ذکر اللہ کے  لئے  کوئی وقت مقرر نہیں  کوئی پابندی نہیں، نہ وضو کی نہ پاکی کی۔ نا پاکی کی حالت میں  بھی دل ہی دل میں  اللہ کو یاد کر کے  اس کی حمد و ثنا کی جا سکتی ہے۔ اس طرح ہر بندۂ مومن دن رات اللہ کی حمد و ثنا میں  کسی نہ کسی طرح رطب اللسان رہتا ہے۔ 
مناجات میں بندہ کا تعلق اللہ سے  ہوتا ہے۔ مانگنا، آہ و زاری کرنا، پچھتانا اور معافی مانگنا اللہ کو بہت پسند ہے۔ اللہ نے  بندوں  کو معافی مانگنے  کے  لئے  کہا ہے۔ اپنے  جلال اور عزت کی قسم کھا کر کہا ہے  کہ تم مجھ سے  مانگو میں عطا کروں  گا۔ مجھ سے  معافی چا ہو میں  معاف کروں  گا۔ گنا ہوں  پر ندامت کے  آنسو بہاؤ میں  ستاری کروں  گا اور گناہوں  کو معاف کر دوں  گا بلکہ انھیں نیکیوں سے مبدّل کر دوں  گا۔ اللہ نے  اس گنہگار بندہ کو بہترین گنہگار کہا ہے  جو اپنے  گناہ پر پچھتائے  اور معافی مانگے۔ 
شاعر ی میں  حمد و مناجات کے  لئے  کوئی مخصوص اسلوب اور آہنگ مقرر نہیں۔ غزل، نظم، مثلث، مسدس، ترجیع بند، ترکیب بند کسی بھی ہئیت میں کہی جاتی ہے  صرف جذبہ کی ضرورت ہے۔ حمد و ثنا لکھتے وقت شاعر کا دل پاک اور ذہن صاف ہو خدا کی بڑائی اور کبریائی کا اسے  احساس ہو اور وہ جذبۂ ایمانی سے سرشار ہو۔ نعت کے  تعلق سے  یہ بات کہی جاتی ہے کہ نعت کا کہنا گویا تلوار کی دھار پر چلنے  سے بھی زیادہ نازک ہے۔ حمد تو خالق کائنات کی حمد و ثنا بیان کرنا ہے اس کو بیان کرنے میں یہ دھار اور تیز ہو جاتی ہے۔ اللہ سے  محبت کا دعویٰ ہو اس کی حمد و ثنا بھی بیان کی جا رہی ہو اور ساتھ ہی اس کی نافرمانی بھی جاری ہو تو دعویٰ جھوٹا اور کسی کام کا نہیں۔ دعویٰ کے  ساتھ جذبۂ اطاعت و فرمانبرداری کا ہونا بھی ضروری ہے۔ 
مناجات نظم کرتے  وقت عاجزی، انکساری، خاکساری اور تضرّع کا جذبہ کارفرما رہے۔ دل میں  اللہ کی ہیبت و 
جلال اور اس کا خوف ہو۔ اسلوب بیان اور الفاظ سے  مسکینی اور بے  کسی کا اظہار ہو۔ شاعرانہ فنی خوبیوں  کو بھی ملحوظ رکھا جائے۔ قرآن شریف میں  وارد ہے  کہ ’’اپنے  رب کو عاجزی اور زاری سے  پکارو‘‘ اس بات کا استحضار ہو کہ میرا رب میری بات کو سن رہا ہے۔ وہ میرے  سامنے  ہے۔ وہ بہت سخی ہے۔ اپنے  بھکاریوں  کو دھتکارتا نہیں  اور نہ کسی کو محروم رکھتا ہے۔ حمد و مناجات لکھتے  وقت شاعر کا دل تصنع اور ظاہرداری سے  پاک ہو اور اخلاص، خشوع و خضوع اور دل سوزی سے  سرشار ہو۔ اللہ سے  عشق و محبت کے  بے  پناہ جذبات میں  ڈوب کر دل کی گہرائیوں  کے  ساتھ حمد و مناجات لکھی جائیں  کہ سننے  اور پڑھنے  والوں  کی آتش شوق بھی بھڑک اٹھے۔(حمدومناجات نمبر مرتب غلام ربانی فدا) 
اردو شاعر ی میں قدیم و جدید شعرا کے حمدیہ و مناجاتی کلام سے  چند شعرا کے  منتخب اشعار یہاں  درج کئے  جاتے  ہیں۔ قرآن مجید کی پہلی سورۃ سورۂ فاتحہ جسے  سورۂ الحمد بھی کہا جاتا ہے۔ اس سورۃ میں اللہ کی حمد و ثنا بیان ہوئی ہے۔ کئی شعرا نے  اس کے  منظوم تراجم کئے  ہیں ان میں  ایک ترجمہ کافی معروف اور مقبول ہوا ہے۔ ایک زمانے  میں  سرکاری اور غیر سرکاری مدارس میں اسکول شروع ہونے  سے  قبل یہ ’’حمد یہ نظم‘‘ سبھی بچے  خوش الحانی سے  پڑھا کرتے  تھے  اس کا پہلا شعر ہے :
آغاز ہمارے  کاموں  کا ہے  نام سے  جگداتا
تو رحم و کرم کا سرچشمہ ہے  فیض ترا ہی لہراتا
سب مراتب ہیں  تیری ذات مقدس سے  ورے 
کس زباں  سے  کہوں  ہے  مرتبہ اعلیٰ تیرا
(مولانا محمود حسن دیوبندی)
خدایا میں  تجھے  اپنا خدا تسلیم کرتا ہوں 
تہہ دل سے  تجھے  سب سے  بڑا تسلیم کرتا ہوں 
(انور صابری)
قرآں  کے  سپاروں  میں 
احساں  کے  اشاروں  میں 
ایماں  کے  سنواروں  میں 
معصوم پیاروں  میں 
میں  نے  تمہیں  دیکھا ہے 
میں  نے  تمہیں  دیکھا ہے 
(مفتی محمود الحسن گنگوہی)
یہ شمس و قمر یہ ارض و سما
سبحان اللہ سبحان اللہ
ہر رنگ میں  تیرا ہے  جلوہ
سبحان اللہ سبحان اللہ
(سیماب اکبرآبادی)
یاد کرنا ہر گھڑی تجھ یار کا
ہے  وظیفہ مجھ دل بیمار کا
(ولی دکنی)
مقدور ہمیں  کیا ترے  وصفوں  کے  رقم کا
حقا کہ خداوند ہے  تو لوح و قلم کا
(دردؔ)
میر حسن کی یہ حمد بھی بہت مشہور ہے  اور ہائی اسکول کے  طلباء کے  نصاب میں  داخل ہے  حمد کا شعر ملاحظہ فرمائیں :
کروں  پہلے  توحید یزداں  رقم
جھکا جس کے  سجدے  کو اول قلم
یا رب ہے  تیری ذات کو دونوں  جہاں  میں  برتری
ہے  یاد تیرے  فضل کو رسم خلائق پروری
(نظیر اکبر آبادی)
ذوقؔ اسماء الٰہی ہیں  سب اسم اعظم
اس کے  ہر نام میں  عظمت ہے  نہ اک نام میں  خاص
(ذوق)
اے  خداوند مہ و مہر و ثریا و شفق
لمعۂ نور سے  ہے  تیرے  جہاں  کو رونق
(انشاء)
عاجز نواز دوسرا تجھ سا نہیں  کوئی
رنجور کا انیس ہے  ہمدم علیل کا
(آتش)
ہر چند ہر اک شے  میں  تو ہے 
پر تجھ سی کوئی بھی شے  نہیں  ہے 
(غالب)
وہ حافظ کہ آتش سے  خس کو بچائے 
تپ عشق سے  بوالہوس کو بچائے 
(مومن)
پتلی کی طرح نظر سے  مستور ہے  تو
آنکھیں  جسے  ڈھونڈتی ہیں  وہ نور ہے  تو
اقرب ہے  رگ جاں  سے  اور اس پر یہ بعد
اللہ اللہ کس قدر دور ہے  تو
(انیس)
قطرے  کو گہر کی آبرو دیتا ہے 
قد سرو کو گل کو رنگ و بو دیتا ہے 
بیکار تشخص ہے، تصنع بے  سود
عزت وہی عزت ہے  جسے  تو دیتا ہے 
(دبیر)
امیرؔ ملتی ہیں  بے  مانگے  نعمتیں  کیا کیا
بڑا کریم ہے  جس کا امیدوار ہوں  میں 
(امیر مینائی)
کونین جس کے  ناز سے  چکرا رہے  ہیں  داغؔ
میں  ہوں  نیاز مند اسی بے  نیاز کا
(داغؔ)
عظمت تری مانے  بن کچھ بن نہیں  آتی یاں 
ہیں  خیرہ و سرکش بھی دم بھرتے  سدا تیرا
(حالی)
آئینہ ہے  لا و الّاِ حسنِ عالمگیر کا
ایک ہے  دیکھو پلٹ کر دونوں  رخ تصویر کا
(شاد عظیم آبادی)
ہم کیا کریں  اگر نہ تیری آرزو کریں 
دنیا میں  اور بھی کوئی تیرے  سوا ہے  کیا
(حسرت موہانی)
پردہ نہ تھا وہ صرف نظر کا قصور تھا
دیکھا تو ذرے  ذرے  میں  اس کا ظہور تھا
(جلیل مانک پوری)
تیری خبر نہیں  ہے  پر اتنی خبر تو ہے 
تو ابتدا سے  پہلے  ہے  تو انتہا کے  بعد
(جگر مراد آبادی)
خدایا نہیں  کوئی تیرے  سوا
اگر تو نہ ہوتا تو ہوتا ہی کیا
(اسمٰعیل میرٹھی)
مالک مرے  بے  نیاز ہے  تو
مالک مرے  کارساز ہے  تو
(ریاض خیر آبادی)
جھک گیا تیرے  آستاں  پہ جو سر
پھر کسی آستاں  پہ خم نہ ہوا
(فانی بدایونی)
یہ نغمہ فصل گل و لالہ کا نہیں  پابند
بہار ہو کہ خزاں  لا الہ الا اللہ
(اقبال)
دعائے  شام و سحر لا الہ الا اللہ
یہی ہے  زاد سفر لا الہ الا اللہ
(ماہر القادری)
اے  مالک ہر دو جہاں 
ہم پر ہے  کتنا مہرباں 
(مرتضیٰ ساحل تسلیمی)
تو خدا ہے  تیرے  لائق کس طرح ہو تیری حمد
خالقِ کل مالکِ کل حاکمِ کل تیری ذات
(عروج قادری)
مری زباں  سے  ہے  ارفع ترا بیانِ کرم
مری نگاہ سے  اونچی ہے  تیری شان کرم
(حافظ امام الدین)
میرے  اللہ تو یکتا ہے  تری ذات قدیم
نہ تیرا کوئی مقابل نہ شریک اور سہیم
(ثاقب عباسی)
اہل عجم کی بات نہ اہل عرب کی بات
اے  دوست ہے  پسند مجھے  اپنے  رب کی بات
(شہود الحق روشن)
خدا ایک ہے  سب کا خالق وہی ہے 
وہی رزق دیتا ہے  رازق وہی ہے 
بڑائی تو ہے  بس اسی کی بڑائی
سن اے  میرے  بھائی سن اے  میرے  بھائی
(ابو المجاہد زاہد)
اے  خدا اے  خدا شکر و احساں  ترا
ہم کو پیدا کیا اور کھانا دیا
اے  خدا اے  خدا شکر و احساں  ترا
(مائل خیر بادی)

Previous Post
Next Post

0 comments: