Wednesday, March 25, 2020

ضبط تحریر:علیم صبا نویدی کی فکری اڑان

پی۔امام قاسم ساقیؔ

D.No:39/107/128/3A.
S.N.Colony(West)
Rayachoti.516269
Dist:Kadapa(A.P)

                ضبط تحریر:علیم صبا نویدی کی فکری اڑان


کائناتِ فکر و فن کا استعارہ ، فلک پر چمکتا ہوا ایک ادبی ستارہ جس کے آگے الفاظ کی لہریں ہمیشہ ساحلِ ادب سے ٹکراتی ہیں جن کا مقصد حیات صرف اور صرف ادب کی خدمت ہے ،وہ اپنے آپ میں ایک ادارہ ہے جس کے آگے سارے کتب لمس صبا کی خواہش لئے بکھرجاتی ہیں ،جس پر ارضِ دکن کو ناز ہے وہ ادب نواز شخصیت کا مالک علیم صبا نویدی ہے ،جن کی ایک کتاب ـ’’ میرا  مطالعہ‘‘ میرے مطالعہ سے گزری ، قلم نے یہ جرأت کرنے کی کوشش نہیں کہ اتنے بڑے ادیب و بابائے اردو ٹمل ناڈو کی تحریروں پر خامہ فرسائی کروں مگر موصوف نے مجھ سے فون پر گفتگو کے دوران یہ مطالبہ کیا کہ میں بھی کچھ لکھوں تب جاکے میرے رشحاتِ قلم سے چند خیالات صفِ قرطاس پر بکھر گئے۔ 
’’میرا مطالعہ‘‘ایک ایسی کتاب ہے جس میں پچپن ماہرین قلم کے سرمایے کی توسیع و تعریض کی گئی ہے ، بلکہ یہ کہا جایے تو غلط نہ ہوگا کہ کہ ایک ادبی آبِ حیات ہے جو کئی قلم کار کو زندہ رکھے گی اور اس کے مطالعہ سے ادبی سرمائے میں اضافہ ہوگا ۔
اس لبِ لباب کا خلاصہ ’’شناخت نامہ ‘‘ سے شروع ہوتا ہے، جس میں پروفیسر عابد صفی نے ببانگ دہل یہ اعلان کیا ہے کہ تاریخِ ادب میں علیم صبا نویدی کی مثال نہیں ملتی ۔ان کے تعلق سے یہ کہوں تو مبالغہ آرائی نہیں ہوگی کہ موصوف کی فنی صلاحیتیں گو وہ نثر ہو کہ شاعری ادبی تاریخ ہو کہ بحرِ اختراعات و ایجادات، ہر تحریر میں علیم صبا نویدی کی مہارت سر چڑھ کر بولتی ہے اور ان کی ادبی مملکت کی وسعتیں ہر صاحبِ خرد کو تبحر و تحیر میں ڈال دیتی ہیں ۔ ڈاکٹر پی ۔احمد پاشاہ نے ’’علیم صبا نویدی کی ادبی مملکت‘‘ کے عنوان سے علیم صبا نویدی کی وسیع النظری اور ہمہ جہت فنکارانہ بصیرت کا یہ ثبوت پیش کیا ہے کہ ’’علیم صبا نویدی کا ادبی سفر نثر سے شروع ہوتا ہے اور نظم کے وسیع میدان سے ہوتے ہوئے نثری بلند و بالا چوٹیوں پر آخر کار اپنا پرچم  لہراتا نظر آتا ہے‘‘۔
’’میرا مطالعہ‘‘ کے ابتدائی چھہ مضامین میں موصوف نے نعت گوئی کی خصوصیات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے دانش فرازی ، سید وحید اشرف ، مختار بدری ،علقمہ شبلی، حیرت الہ آبادی، صبیح رحمانی کی تخلیق کردہ نعتوں کی فنی و لسانی باریکیوں کی طرف اشارہ کرکے ان کی تخلیقی خصوصیات کو بیان کیاہے۔دانش 

فرازی کی ایک نعتیہ نظم ’’ محسنِ اعظم‘‘ پرموصوف نے تبصرہ کرتے ہوئے لکھا ہے
’’ محسنِ اعظم حضرت دانش فرازی ، مرحوم کی ایک مختصر جامع نظم ہے۔ جو بنی اکرم صل اللہ علیہ و سلم کی حیاتِ طیبہ ہی کا احاطہ نہیں کرتی بلکہ آپؐ کی بعثت سے پہلے کے واقعات، خواب وتعبیر خلیل اللہ ، عرب دنیا کی جہالت کفر و الحاد اور گمراہیوں کا تذکرہ ہے۔ حضرت دانش نے حضور اکرمؐ کی پیدائش ، بچپن اور جوانی کا احاطہ بڑے خوب صورت انداز سے کیا ہے۔ آپ کی نظم تین شعروں پر مبنی بندوں کی شکل میں ہے۔ جو مسدس سے قریب ہے۔اسے مسدس اس لئے نہیں کہا جا سکتا کہ ہر بند کا پہلا مصرعہ قافیہ بردار نہیں ۔ ہر بند تین شعروں پر مشتمل ہے ۔‘‘
مندرجہ بالا اقتباس موصوف کی ہمہ جہت فنکارانہ صلاحیت کے ساتھ ان کے تجزیاتی مطالعہ کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے ۔سید وحید اشرف کا نعتیہ مجموعہ ’’ تجلیات ‘‘ پر بحث کرتے ہوئے ان کی نعتیہ شاعری میں فنی و لسانی باریکیوں کا جائزہ لیتے ہوئے کہا ہے کہ اشرف صاحب کے نعتیہ اشعار سہل و ممتنع ہونے کے ساتھ پرمغز و معنی خیز ہونے کی وجہہ سے شاعر کا رجحان قاری و سامع کو سمجھ میں آجا تا ہے۔ایک اورمضمون’’مختار بدری کی نعت گوئی ‘‘میںنعت گو شعراء کا احاطہ کرتے ہوئے مختار بدری کی نعتیہ شاعری کے مختلف النوع مضامین سے ذہن و فکر کو روح کو خوشبؤوں سے معطر کردیا ہے۔علقمہ کی نعت گوئی کا جائزہ پیش کرتے ہوئے موصوف نے علقمہ کی نعتیہ شاعری میں عروضی وفنی باریکیوں کا تذکرہ کیا ہے ۔ اس مضمون کے ذریعے موصوف کی فنی بصارت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔حیرت الہ آبادی اور صبیح رحمانی کی نعتیہ شاعری میں ہئیتی نظام اور اس کی فنی خصوصیات کو ضبطِ قلم کیا ہے۔ 
  بعدازیں جوش ملیح آبادی کی شاعری میں رومانی سرمستی کے عنوان سے ان کی فکری رومانیت اور لفظی صداقت کے امتزاج کا جائزہ لیا ہے۔ قتیل شفائی کی آموختہ کے مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ ناقدِ وقت علیم صبا نویدی نے لطیف طنز کا سرمایہ بکھیر دیا ہے۔ آسمان محراب کے عنوان سے شمس الرحمن فاروقی کی تحریروں میں فنی خصوصیات کا جائزہ لیتے ہوئے لکھاہے کہ ’ان نظموں میں 
بحروں کی اچانک تبدیلیاں بڑا مزہ دیتی ہیں جیسے کوئی دریا مختلف ارضیوں سے مختلف ڈھنگ سے گزر رہا ہے ۔‘‘ ماہرِ عالم صوتیات ڈاکٹر گوپی چند نارنگ ’’املانامہ‘‘ کی تحریر جاگتے ذہنوں کی احساس و شعورکو بیدار کرتی ہے ۔ اس سے پتا چلتا ہے کہ علیم صبا نویدی کا ذہن مختلف النوع جہات کی عکاس ہے کبھی وہ کاوش بدری کی فکری سلطنت پر حملہ کرتے ہیںتو کبھی خلیل مامون کی نثری نظموں پر دستخط کرتے ہیں ،کبھی شہابِ سخن سے پروفیسرسید طلحہٰ رضوی برق کی رباعی گوئی کامنظر منظرِ عام پر لاتے ہیں۔اس کتاب میں کل پچپن مضامین شامل ہیں جو مختلف النوع موضوعات پر مشتمل ہیں۔ایک اور بات عرض کرتا چلوں کہ موصوف کُل بیاسی کتابوں کے مصنف و ترتیب کار ہیں ان کے چھہتر 76کتابیں آپ گوگل سرچ آن لائن کے ذریعے مطالعہ کر سکتے ہیں ۔اس کے لئے آپ کو صرف گوگل سرچ میں انگریزی میں علیم صبا نویدی ٹائپ کرنا ہوگا ۔ جہاں تک میرا خیال ہے کہ ہر کتاب آن لائن ہونا لازمی ہے جس سے ایک فائدہ یہ ہوگا کہ ہر کوئی اس سے فائدہ اٹھا سکتا ہے اور دوسرا اہم فائد ہ یہ ہے کہ مارفنگ کے ذریعے سرقہ کی فیصد کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔  
الغرض ہر مضمون ایک نیا زاویہ فکر لئے اپنے آپ میں بے مثال اور ایک شہکار ہے جس کے مطالعہ سے ہر ادیب ،دبستانِ فکر و ادب کی وسیع و عریض آفاقیت کا سیر کر آتا ہے اور اپنے علم و ادراک کی وسعتوں کو معتبر کر دیتا ہے۔
٭٭٭
Previous Post
Next Post

0 comments: