Tuesday, January 15, 2019

امام اعظم کے اساتذہ

  آپکے ان اسا تذہ کے اسماء گرا می بتا ئیے جو کئ صحا بہ کے علم الحد یث کے وا رث ہیں؟
جواب۳۹: 
اس بات کے لیے خو د امام اعظم کا مقو لہ پیش کرنا زیا دہ مناسب معلو م ہو تا ہےچنا نچہ ایک مر تبہ لباسی درکا خلیفہء درم ابو جعفر منصور نے آپ سے پو چھا کہ آپ نے کس شخص سے علم حاصل کیا ؟ آپ نے فرما یا:میں نےحضرت عمر بن ابو طا لب کے شا گر دوںکے ذر یعہ حضرت عمر سے حضرت علی کے شا گردوں کے وا سط حضرت علی سے اور حضرت عبد اللہ بن مسعود کے شا گر دوںکےتو سط سےحضرت عبد اللہ بن مسعو د سے علم حا صل کیا) جبکےحضرت بن عباس کےز ما نہ میں روے ز مین ان سے بڈھکر کو ئ بڑاعا لم نہ تھا ، خلیفہ منصور(ان تمام ہستیوں کا نام سن کر)کہا آپ نے اپنے علم کو بہت جلدپختہ کرلیا ہے۔تاریخ بغدادی، صفہ ۳۳۴ 
اسی طرح امام عبد اللہ ابن داؤد کہتے ہیں میں نے امام اعظم ابو حنیفہ سے دریافت کیا کہ آپ کن اکابر ائمہ سے ملاقات شرف حاصل کیا ہے ؟انہوں نے فرمایا! "قاسم (ابن محمد ابن ابی بکر) سالم ( ابن عبداللہ بن عمر) طاؤس ( ابن کیسان) عکرمہ مکحول ، عبد اللہ ابن دینار ، حسن بصری، عمر ابن دینارابو زبیر ( محمد بن مسلم، عطاء بن ابی رباح ، قتادہ ، ابراھیم ، شعبی ، نافع اور ان جیسے دور کے بزرگوں سے ۔ (مسند الامام الاعظم صفہ ۱۸۹ ) مزکورہ محدثین تابعین کے علمی مقام و مرتبہ ، اور تفصلی حالات اگر معلوم کئے جائیںتو پتہ چلے گا کہ یہ اکابر کتنے جلیل القدر صحابہ کے شاگرد ہیں اورکتنا ذخیرہ علم حدیث اکھٹا کئے ہیں گویایہ حضرات ِ تابعین محدثین علم حدیث کے مرکز کی حیثیت سے تھےاور سرکار امام اعظم بلا واسطہ انکے شاگرد اللہ ہی لہٰذا سارا علم حدیث جو انہوں نے صحابہ سے اخذ کیا تھا وہ پوراسمیٹ کر امام اعظم کو عطا ء کئے ہیں تو امام اعظم کے علم حدیث پہ مقام کا اندازہ لگایئے کہ کیا ہوگا 
اسی طرح آپکے تابعی اساتذہ پہ حضرت امام ابو عمران ابراھیم نخعی متوفیٰ ۹۰ ھج کوفی ، 
حضرت امام ابو جعفر محمد الباقر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ۱۱۴ ھج ، حضرت امام ابو م،محمد حکم ابن عتیبہ متوفیٰ ۱۱۵ھج۔حضرت امام قاسم ابن عبدالرحمٰن مرتوفیٰ ۱۱۶ ھج حضرت امام نافع مولیٰ ابن عمر متوفیٰ ۱۱۷ ھج حضرت امام سماک ابن حرب متوفیٰ ۱۲۳ ھج حضرت امام ابن شہاب زہری ۱۲۴ ھج حضرت امام ابو اسحٰق سبعیی متوفیٰ ۱۲۷ھج حضرت امام عثمان ابن عاصم متوفیٰ ۱۲۸ ھج وغیرہ ہیں (اعلام النسبلئہ ،تھذیب التھذیب ، تھذیب الکمال ،تذکرۃالحفاظ)
 بطور تمثیل یہاں چند اسماء اساتذہ کا ذکر کیا گیا ورنہ آپ کےتابعی و غیر تابعی اساتذہ کی مکمل فہرست کا احاطہ تحریر میں نہیں لایا جاسکتا مشہور مورخین ناقدین اور محدثین کے چار ہزار تعداد کا ذکر کیا ہے مگر اسماء الرجال کی کتب میں انکے پورے اسماء و حالات، تاریخ وغیرہ دستیاب نہیں ہیں صرف چند ہی اساتذہ کی تفصیل کتب سیر میں ملتی ہے مگر ان میں سے میں بلکل تمثیلا بعض حضرات کے اسماء درج کیا ہےلہٰذاان مذکورہ حضرات کے علمی مقام اور ملاقات صحابہ اور معاصرین کے نزدیک آپ کے عظمت اور شان کے متعلق یہاں تحریر کرنا فائدہ و حکمت سے خالی نہ ہوگا لہٰذا چند حضرات کی تفصیلات پیش خدمت ہیں ۔
Previous Post
Next Post

0 comments: