Wednesday, March 25, 2020

سلیم انصاری کے مطالعہ کا سفر

ڈاکٹر سید اسرارالحق سبیلی

اسسٹنٹ پروفیسر و  صدر شعبۂ اردو  
گورنمنٹ  ڈگری اینڈ پی جی کالج سدّی پیٹ 
 ریاست تلنگانہ  ۔ ۵۰۲۱۰۳

سلیم انصاری کے مطالعہ کا سفر  


 سلیم انصاری (پ: ۱۹۶۲) کا تعلق ۱۹۸۰ ء کے ما بعد جدید ادبی نسل سے ہے ۔وہ بنیادی طور پر غزل اور نظم کے شاعر ہیں اور شاعر کی حیثیت سے ہی اپنی شناخت رکھنا چاہتے ہیں ،لیکن ان کا خیال ہے کہ ہر ادبی نسل کو اپنا ناقد خود پیدا کرنا چاہئے ،اس لئے انہوں نے اپنی ادبی نسل کی تخلیقی سمت و رفتارکے مطالعے کا سفر بھی ساتھ ساتھ جاری رکھا ہے اور اپنے مطالعے کو رسائل و جرائد کی زینت بھی بخشتے ہیں ۔ ان کی کتاب:ــــ مطالعے کا سفر ایسے ہی مضامین کا انتخاب ہے۔
کتاب کا عنوان بڑا دلچسپ اور سبق آموز ہے ،ایک طالب علم ، معلم ، ادیب،نقاد، محقق اور شاعر کے لئے مطالعہ ہی سب کچھ ہے۔مطالعہ کے بغیر وہ ادھورا ہے ،بلکہ ڈاکٹر گیان چند جین کے مطابق وہ مردہ ہے۔کتاب کے عنوان سے اندازہ ہوتا ہے کہ مطالعہ سلیم انصاری کی دلچسپی،زندگی اور کمزوری بھی ہے۔کاش یہ کمزوری اسمارٹ فون کی جگہ لے لے تو اب بھی ہم راہِ راست پر آکر علم و ادب میں ہو رہے خلا کو پر کر سکتے ہیں۔
’’مطالعے کا سفر‘‘میں کل ۲۷ مضامین شامل ہیں ،جن میں بیشتر مضامین کا تعلق ما بعد جدید نسل کے نمایاں شاعروں سے ہے ،جیسے غضنفر،خالد جمال ،کبیر اجمل،عطا عابدی،شہناز نبی،جاوید ندیم اور ظفر گورکھپوری وغیرہ ، نیز مابعد جدید نظم اور شاعری سے متعلق دو مضامین شامل ہیں ۔ان کے علاوہ آفاقی شاعر غالب و اقبال اور پیش رو نسل کے شاعر ستیہ پال آنند ( لہو بولتا ہے)،اور کرشن کمار طور (خاک خمیر )کی شاعری پر عقیدتمندانہ اظہارِ خیال کیا گیا ہے ،نئی صدی کے اہم ناول نگار نورالحسنین،شموئل احمد اور مشرف عالم ذوقی کے ناولوں بالترتیب ’’ ایوانوں کے خوابیدہ چراغ ‘‘،’’ گرداب ‘‘اور ’’ لے سانس بھی آہستہ ‘‘پر تاثرات اور تنقیدی اظہار کیا گیا ہے۔علاوہ ازیں ’’ دکن کی پیش رو غزلیں ‘‘( اسلم مرزا)، ’’ میخانۂ اردو کا پیرِ مغاں ۔نارنگ ساقی‘‘ ( نذیر فتح پوری)اور حیدر قریشی کے افسانوں اور رتن سنگھ کے افسانچوں ( مانک موتی) پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے ۔
اس طرح سلیم انصاری کے مطالعے کے سفر میں قدیم و جدید کا حسین امتزاج اور عصر حاضر کی مروجہ اصناف کا متوازن و دلچسپ جائزہ و مباحثہ شامل ہے ، 
جس کے مطالعہ کے بعد قلب و نگاہ کو مسرت و بصیرت اور شعور و آگہی کے نئے چراغ روشن ہوتے ہیں اور اظہار و بیان کے نئے نئے اسالیب و انداز ،تفہیم و ترسیل کے 

نئے نئے زاویے اور تنقید و تمییز کے نئے نئے گوشے سامنے آتے ہیں۔
سلیم انصاری نے اپنے مضمون کی ابتدا ’’ اقبال کی شاعری میں ہندوستانی تہذیب کے عناصر ‘‘سے کی ہے ۔اس میں انہوں نے واضح کرنے کی کوشش کی ہے کہ یوروپ میں قیام کے دوران مسلسل غور و فکر اور تہذیبوں کے تقابلی مطالعہ کے زیرِ اثر اقبال اس نتیجہ پر پہنچے کہ ہندوستان میں صدیوں پرانی تہذیبی روایتوں اور وراثتوں کے علاوہ اصلاحی افکارو نظریات کے revivalکی ضرورت ناگزیر ہے ،چنانچہ یوروپ سے واپسی کے بعد رام اور نانک جیسی شہرۂ آفاق جیسی نظمیں لکھ کر ہندوستانی تہذیب و ثقافت کی عظیم روایتوں اور وراثتوں سے اپنی وابستگی کو اور بھی واضح کردیا۔ان کو احساس ہے کہ ہندوستان کے صوفیوں ، سنتوں اور فقیروں نے اپنی تعلیمات کے ذریعہ قومی یکجہتی،بھائی چارگی اور امن ومحبت کا پیغام دیا ہے جو سرحدوں کے حصار سے نکل کر مغرب میں فیض کا سرچشمہ بنی ہوئی ہے،جس کی آج ہندوستانیوں کو سخت ضرورت ہے ۔
’’غالب کی شاعری میں امیجری کی تلاش‘‘سلیم انصاری کا دوسرا مضمون ہے ،امیجری دراصل ایسی اصطلاح ہے جو انگریزی ادب کی تنقیدی تحریروں میں کثرت سے مستعمل ہے ،اس کے لغوی معنی لفظوں کی مدد سے تصویر بنانے اور پیکر سازی کا عمل ہے ۔سلیم انصاری کے مطابق غالب ایک کامیاب مصورِ جذبات ہیں ،انہوں نے محبوب کی بے وفائی،ہجر و وصال ،امید و ناامیدی اور زندگی کے دیگر مسائل کے اظہار کے لئے غیر شعوری طورپر امیجری کی کئی اقسام کا استعمال کیا ہے جس میں سادہ امیج،مجرد امیج اور منتشر امیج وغیرہ اہم ہیں ۔( صفحہ ۱۹ تا ۲۲) 
تیسرا مضمون ’’ستیہ پال آنند کا تخلیقی شعور اور عالمی عصری آگہی‘‘( لہو بولتا ہے کی روشنی میں )ہے۔سلیم انصاری کو یہ اعتراف کرنے میں کوئی تکلف نہیںکہ عالمی سطح پر اردو نظموں کو متعارف کرانے میں ستیہ پال آنند کی کوششوں کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ،سلیم انصاری کا مطالعہ ،دقتِ نظر،تجزیہ،استحسانِ ادب ،تنقیدی شعور اور حسنِ انتقاد کا اندازہ ذیل کے اقتباس سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے:
’’ستیہ پال آنند کی نظموں کے سنجیدہ مطالعے سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ ان کے یہاں نظموں کی تخلیقی فضا میں ایک طرح کا کھلا پن ہے،ان کے ڈکشن میں نظموں کے مرکزی خیال کو مختلف جہتوں میں روشن کرنے کی صلاحیت
ہے،اور ان کی سوچ کی زیریں لہروں میں نظم کے ساتھ ساتھ سفر کرنے کی ہنر مندی موجود ہے ۔ان کے یہاں جدید اردو نظموں میں مسلسل استعمال ہونے والے لفظ ہر بار نئی معنویت خلق کرنے پر قادر ہیں۔‘‘  ( صفحہ ۲۴)
جیسا کہ شروع میں  عرض کیا گیا کہ مصنف نے مابعد جدیدیت پر دو مضامین شامل کئے ہیں ،یہ دونوں مضامین ما بعد جدیدیت کی افہام و تفہیم ،افادیت اور اس کی وسعت کو سمجھنے میں بہت ممد و معاون ہیں ۔ترقی پسندی سے انحراف کے نتیجے میں جدیدیت کے علم برداروں کو کھلی فضا کا احساس ہوا ،موضوعات،فارم اور اسلوب کی سطح پر نئے تجربات کے مواقع میسر آئے ،مگر جدیدیت نے بھی رفتہ رفتہ وجودیت اور اجنبیت کے منشور کو غیر شعوری طور پر لاگو کرنا شروع کردیا، جس کے نتیجے میں ذات کے خول میں بند مایوسی، تنہائی ،داخلی انتشاراور قنوطیت کے شکار جدیدیت گزیدہ تخلیق کاروں کا رشتہ نہ صرف اپنے عہد کے سیاسی ،سماجی،اور تہذیبی شعور و آگہی سے کٹ گیا اور اس نام نہاد فیشن پرست جدیدیت سے بیزار ہوکر ادب کا سنجیدہ قاری بھی کنارہ کش ہو گیا ،یہیں سے جدیدیت کا زوال اور مابعد جدیدیت کا آغاز ہوا ۔( صفحہ ۳۰۔۳۱ )
۱۹۸۰ ء کے بعد کی نئی نسل کے بیشتر شعراء کے یہاں مابعد جدیدیت ایک غالب رحجان کی شکل میں نمو پذیر ہوئی،اور اس نئی نسل کی اپنی علاحدہ اور آزاد عصری فکر و شعور کے زاویے سامنے آئے ۔اس نسل نے سائبر،کمپیوٹر اور انٹرنیٹ عہد کے مسائل و مصائب کو اپنے طور پر سمجھنے کی کوشش کی ہے ،تاہم سلیم انصاری کو اعتراف ہے کہ مابعد جدیدیت کے نظم نگارشاعروں نے عصری تقاضوں کو کماحقہ پورا کرنے میں یقیناً کوتاہی برتی ہے۔
مصنف نے اس بات پر اطمینان کا اظہار کیا ہے کہ ۱۹۸۰ ء  کے بعد ادبی افق پر نمایاں ہونے والی نسل کے یہاں نہ تو اپنی پیش رو نسل کی فکر کا عکس ہے اور نہ ہی کسی نظریاتی وابستگی کا احساس ہوتاہے ،بلکہ کھلے ذہن اور وسیع تناظر میں مشاہدات اور محسوسات کی ایک نئی تخلیقی ،سچائی کا احساس اور عصری مسائل و مصائب کا آزادانہ اور فطری اظہار ہوتا ہے ۔سلیم انصاری نے مابعد جدید نظموں کے تخلیقی حوالوں سے ۱۹۸۰ء کے بعد کے چند شعراء کے نام درج کئے ہیں ،جیسے عالم خورشید،خورشید اکبر ،خورشید طلب،اکرام خاور،کوثر مظہری ،جمال اویسی،غضنفر،جینت پرمار، ریاض لطیف،ابراہیم اشک، ساجد حمید،شاہد کلیم ، شبنم عشائی،شاہد جمیل ، عنبر بہرائچی،نعمان شوق،شیخ خالد کرار،معراج رعنا، راشد انور راشد،راشد جمال فاروقی،سہیل اختر،عذرا پروین،ترنم ریاض،عطا عابدی، مشتاق صدف، خالد عبادی،امیر حمزہ ثاقب،شارق کیفی اور عطاء الرحمٰٰن وغیرہ۔مصنف نے مضمون کے آخر میں اس بات کی ضرورت پر زور دیا ہے کہ نئی نسل کے ان تخلیق کاروں کی نگارشات کا ایمانداری سے تجزیہ کیا جائے اور ایوانِ ادب میں گونجتی ان پر امید آوازوں کو شناخت کے عمل سے گزاراجائے ، انہوں نے پیش رو نسل کے ناقدینِ ادب سے مطالبہ کیا ہے کہ چشم پوشی کے بجائے اس نسل کی تخلیقی صلاحیتوں کا غیر جانبدارانہ اورپر خلوص جائزہ لیا جائے،تاکہ ان کے شعری سرمایے کی قدر و قیمت کا تعین کیا جا سکے۔ ،،( صفحہ ۳۸۔۴۸)
سلیم انصاری نے کرشن کمار طور کے تازہ ترین مجموعے ’’ خاک خمیر ‘‘کا اچھا تجزیاتی اور تنقیدی مطالعہ پیش کیا ہے کہ ان کی فکر کا کینوس بے حد وسیع ہے ،ان کی شاعری میں اسلوب اور اظہار کی سطح پراگرچہ کلاسیکی رچائو ہے ،مگر لہجے کی تازہ کاری ،منفرد ڈکشن اور انوکھی تراکیب کے علاوہ طرزِ اظہار کی شگفتگی اور اسلوب کی ندرت نے ان کی عشقیہ شاعری کو نئے رنگ و آہنگ سے ہم کنار کیا ہے۔ان کی انفرادیت یہ ہے کہ انہوں نے اپنا مخصوص ڈکشن خود وضع کیا ہے اور یہی ڈکشن ان کی تخلیقی شناخت کا معتبر حوالہ ہے۔(صفحہ ۴۹۔۵۰)
شموئل احمد کے ناول ’’گرداب ‘‘ان کے دوسرے ناولوں کی طرح مرد و عورت کے درمیان نا معلوم جنسی رشتوں کی ضرورت اور اس کی نفسیات پر مبنی ہے ،جو جسم سے شروع ہو کر ذہن و روح تک اپنی تمام تر پیچیدگیوں اور الجھنوں کے ساتھ پھیلتا چلا جاتا ہے۔
آج کی تیز رفتار مشینی زندگی میںافسانچے جیسے مختصر ترین فن پاروں کا تخلیقی جواز اور اس کی اہمیت و افادیت سے انکار کی گنجائش نہیں ہے ۔مشہور ترقی پسند افسانہ نگار رتن سنگھ کا ’’ مانک موتی‘‘ان کے ایک سو افسانچوں پر مشتمل ہے ،جسے افسانچوں کے سفر میں ایک سنگِ میل کی حیثیت حاصل ہے ۔مجموعی طور پر رتن سنگھ کے افسانچے زندگی کے وسیع تر کینوس پر پینٹ کی گئی ایسی تصویریں ہیں جن میں اپنے احساس و ادراک کی آنکھوں سے معاشرے کی موجودہ سیاسی اور سماجی صورتِ حال کا عکس بھی دیکھ سکتے ہیں۔
مشرف عالم ذوقی نے بے شمار افسانوں کے علاوہ کئی عمدہ  ناول بھی تحریر کئے ہیں ،جن کے موضوعات موجودہ عہد کی سیاسی اور سماجی بصیرت کے آئینہ دار ہیں ۔ ان کا ناول ’’ لے سانس بھی آہستہ‘‘کا مرکزی خیال بھی ان کے عصری ،سماجی اور سیاسی شعور و آگہی کا آئینہ دار ہے ۔ اس ناول میں ہندوستان کی آزادی کے بعد پیدا ہونے والی صورتِ حال اور تہذیبوں کے تصادم اور نسلوں کے ٹکرائو اوراخلاقیات سے انحراف کو نہایت عمدگی سے بیان کیا گیا ہے۔ذوقی کے مطابق یہ ناول تہذیب کا مرثیہ نہیں بلکہ گلوبل سماج کی بدلتی ہوئی تصویر کا آئینہ ہے ،سلیم انصاری کے مطابق ’’ اس ناول کا شمار ایک کامیاب ناول کے طور پر کیا جائے گا کیونکہ اس میں کہانی کا سفر بیک وقت کئی سطحوں اور متعدد دشائوںمیں ہوتا ہے ،اور خاص بات یہ ہے کہ کہانی کے ساتھ ساتھ اپنے عہد کی تہذیبی،سیاسی اور سماجی تاریخ بھی رقم کرتے چلے جاتے ہیں ۔ ( صفحہ۷۷۔۸۴) 
سلیم انصاری نے ’’ وحشی سعید کے افسانوں میں زندگی کی تلاش ‘‘ ان کے افسانوی مجموعہ ’’ سڑک جارہی ہے ‘‘کے حوالے سے کی ہے ،جس میں ۳۰ افسانے ہیں ،انصاری صاحب کے بقول :یہ افسانے عام قاری سے رشتہ استوار کرنے کی بھر پور صلاحیت رکھتے ہیں اور افسانہ نگار کی تخلیقی توانائی اور اسلوب کی
انفرادیت کے مظہر ہیں ۔
’’ حیدر قریشی کے افسانوں کی حقیقت ‘‘کا اظہار سلیم انصاری نے ،،روشنی کی بشارت ،،کے حوالے سے کیا ہے ،حیدر قریشی کے یہاں روشنی ایک کلیدی استعارہ ہے جو ان کی کہانیوں کو تہ در تہ معنویت سے ہم کنار کرتا ہے،یہ روشنی جب باطن سے منعکس ہوتی ہے تو درویشوں ،قلندروں اور صوفیوں کے قلوب کو منور اور معطر کرتی ہے اور انسانوں کو تاریکیوں سے نکال کر ایمان افروز روحانی عقیدوں اور جذبوں کے روشن جہانوں میں لے جاتی ہے ۔غرض حیدر قریشی ایک ایسے افسانہ نگار ہیں جن کے یہاں موضوعات کا تنوع اور اسلوب کی رنگا رنگی دونوں موجود ہیںجو ان کی کہانیوں کو معانی و مفاہیم کے نئے ذائقوں سے روشناس کراتے ہیں ۔
’’دکن کی پیش رو غزلیں ۔ایک مختصر جائزہ ‘‘میں سلیم انصاری نے اسلم مرزا کی تازہ ترین تحقیقی کتاب ’’ دکن کی پیش رو غزلیں ‘‘کا مختصر جائزہ پیش کیا ہے ،اس کتاب میں کثیر الجہت قلم کار ،محقق،نقاد،شاعر اور مترجم اسلم مرزا نے دکنی اردو کے ایک سو سترہ نمائندہ اور اہم شعراء کا اجمالی تعارف مع نمونۂ کلام مستند اور معتبر حوالوں کے ساتھ رقم کیا ہے۔انہوں نے اپنی تحقیق کا دائرہ گول کنڈہ اور بیجا پور کے علاوہ آصف جاہی عہدکے دکنی شعراء تک پھیلا دیا ہے ،جس کے سبب اس کی اہمیت و افادیت کا کینوس وسیع ہو گیا ہے ۔کتاب میں شامل شعراء کا کلام پڑھنے سے دکنی اردو میں لسانی سطح پر بتدریج ہونے والی تبدیلیوں اور سمت ورفتار کا اندازہ ہوتا ہے ۔اس کتاب میں شامل غزلیں ہماری تہذیبی اور تاریخی وراثت کاناقابلِ فراموش حصہ ہیں ۔( صفحہ ۱۰۰۔۱۰۳)
ٍ’’ میخانۂ اردو کا پیرِ مغاں ‘‘نذیر فتح پوری کی ایسی کتاب ہے ،جو کے ۔ایل نارنگ ساقی کی ذات ،اردو سے ان کی بے لوث و بے پناہ محبت ،ادبی بزم آرائیوں اور اردو کی تہذیبی،ثقافتی اور ادبی صورتِ حال کا عصری منظر نامہ پیش کرتی ہے ۔اس کتاب کے مطالعہ سے نارنگ ساقی کی شخصیت کے کئی پہلو اجاگر ہوتے ہیں ،ان کی مہمان نوازی ،خلوص ،اخلاق ،بھائی چارگی اور انسان دوستی سرحدوں کی قید و بند سے آزاد ہیں ۔پاکستان سے آنے والے شعراء اور ادباء ہی نہیں بلکہ دیگر پاکستانی بھی ان کی مہمان نوازی سے یکساں طور پر فیض یاب ہوتے ہیں ۔وہ اپنی مہمان نوازی کے دوران پورے ہندوستان کی ادبی، تہذیبی اور ثقافتی قدروں کی نمائندگی کرتے ہیں ۔نذیر فتح پوری نے نارنگ ساقی صاحب کی تالیف کردہ کتب ’’ ادیبوں کے لطیفے  ‘‘ اور،، خوش کلامیاں قلم کاروں کی ‘‘ کے حوالے سے ان کی محبت ، خلوص اور ظرافت پر بھر پور روشنی ڈالی ہے ۔
غضنفر ایک کامیاب ناول نگار اور افسانہ نویس کی حیثیت سے شہرت رکھتے ہیں ،لیکن جب مصنف کو ان کی شاعری کا مجموعہ ’’ آنکھ میں لکنت ‘‘ موصول ہوا تو وہ ایک خوشگوار حیرت سے دو چار ہوئے،غضنفر کی شاعری براہِ راست زندگی کے مسائل و مصائب سے مکالمہ کرتی نظر آتی ہے ،سلیم انصاری کے مطابق غضنفر کی شاعری میں ایک ایسے انسان کا تصور ہے جو مثالی نہیں بلکہ اپنے مسائل و مصائب سے نبرد آزما،زندگی سے برسرِ پیکار ،اپنی ضرورتوں کے حصول میں ناکام ہوکر ذہنی انتشار کا شکار ،گھر ،دفتر اور سڑکوں پر بکھرا ہوا ایسا انسان ہے جسے بیک وقت اپنی معاشرتی اور انفرادی ذمہ داریوں کا احساس ہے ،یہی نہیں بکھرتی ٹوٹتی تہذیبی قدروں کے درمیان زندگی کرتا ہوا ایک ایسا فرد غضنفر کی شاعری میں نظر آتا ہے جو جہدِ مسلسل کی ایماندارانہ کوشش کرتا ہے۔
دفتر میں ذہن،گھر میں نگہ،راستے میں پائوں ۔جینے کی کوششوں میں بدن ہاتھ سے گیا 
٭٭٭ 
Previous Post
Next Post

0 comments: