Wednesday, March 25, 2020

(مجموعہ’اَبابیل کی ہجرت‘ کے تناظرمیں)


    تنویر اختر رومانی

      59, Chuna Shah Colony, P.O. :
        Maango, Jamshedpur-831012 
          E-mial. taroomani@gmial.com
            ڈاکٹر شاہد جمیل کے افسانوں کی انفرادیت

              (مجموعہ’اَبابیل کی ہجرت‘ کے تناظرمیں)


              ڈاکٹر شاہد جمیل افسانوں کی دنیا کا ایک شنا سانام ہے۔۱۹۹۱ء میں اُن کی ایک تنقیدی کتاب ’امراؤجان ادا : ایک مطالعہ‘ منظر عام پر آئی تھی۔اِس طویل دورانیے (۲۸؍برس) میںاُن کی کوئی طبعزاد کتاب منصہ شہود پر نہیں آئی۔ البتہ دو اُردو کتابوں کا ہندی میں اور تین ہندی کتابوں کا اُردو میں ترجمہ طبع ہوچکا ہے۔ ہاں ، ایک خاص بات اور،محکمہ کابینہ سکریٹریٹ کے اُردو ڈائرکٹوریٹ کے سہ ماہی اُردو رسالے ’بھاشا سنگم‘ کے لائق و فائق مدیر کی حیثیت سے اُردو والوںسے دادو تحسین وصول کرچکے ہیں۔ وہ بہار سرکار کی ملازمت سے ۲۸؍ فروری ۲۰۱۸ء کوراج بھا شا اَفسر(اُردو) کے منصب سے سبکدوش ہوچکے ہیں۔
               ’اَبابیل کی ہجرت ‘ڈاکٹرشاہد جمیل کے افسانوں کا پہلا مجموعہ ہے، جو ۲۰۱۸ء میں منظر عام پر آیا۔پہلی نظر میں ، اِس کتاب میں ایک خوش آئند امریہ آشکارا ہوتا ہے کہ مصنف نے اپنے افسانوں کے تعارف کے لئے کسی معروف یا معتبر ناقد/فنکار کی بیساکھی نہیں استعمال کی۔ اپنے فن کے تئیں یہ مصنف کی خود اعتمادی کی واضح دلیل ہے۔ بے جا روایت سے اِس بغاوت پر میں اُنہیں ہدیہ تہنیت پیش کرتاہوں۔
               فلیپ یا سرورق کی پُشت پر بھی کسی کی رائے درج نہیںہے۔اس کی بجائے دونوں فلیپ اور پشت پر مصنف نے اپنے آٹھ افسانوں سے خوبصورت اور قابلِ ستائش اقتباسات در ج کئے ہیں۔ نیز ایک اندرونی صفحے پر ڈاکٹر زاہد انور نے مجموعے کے دو افسانوں کے قابل ذکر اقتباسات فراہم کئے ہیں۔
              ہر افسانے کے آخر میں، اُن رسالوں کے نام مع ماہ وسال درج ہیں، جن میں افسانے چھپ چکے ہیں۔ چار افسانوں،’مردم گزیدہ‘، ’نجات‘،’ تہی دست‘،’ تھوٗتھو‘ٗ کو چھوڑ کر سبھی افسانے دو یا دو سے زاید رسالوں کی زینت بنے ہیں۔ ’’من آنم کہ من دانم‘‘ کے مطالعے سے پتا چلتاہے کہ اُن رسالوں کے مدیران نے قصداً اِن مطبوعہ افسانوںکو شائع کیا ہے۔مدیر حضرات کے اِس عمل سے اِن افسانوں کو معیاری اور قابلِ قدر ہونے کی سند فراہم ہوتی ہے۔

              ’ابابیل کی ہجرت‘ میں کل پندرہ افسانے شامل ہیں ۔ افسانوں کی ترتیب وطوالت یوں ہیں: ۱۔ جالے میں پھنسی مکڑی (۱۴؍صفحات) ۲۔ گردشِ ایّام (۱۴؍صفحات) ۳۔ مردم گزیدہ (۱۴؍صفحات) ۴۔ دست و بازو (۱۶؍صفحات) ۵۔مہاجر(۱۲؍صفحات)۶۔اپنے پرائے(۱۴؍ صفحات) ۷۔ نجات (۱۴؍صفحات) ۸۔ ایک جنگ اور (۲۰؍صفحات) ۹۔ تہی دست (۱۰؍صفحات) ۱۰۔ تحفہ (۱۰؍صفحات)۱۱۔ تھوٗ تھوٗ (۱۰؍صفحات)۱۲۔ داغ (۱۲؍صفحات)۱۳۔ محبت کا صلہ(۱۲؍صفحات)۱۴۔ صحرا میں بھٹکتی چڑیا (۹؍صفحات) ۱۵۔ اَبابیل کی ہجرت (۱۰؍صفحات)۔گویااِس مجموعے میں سب سے طویل افسانہ’ایک جنگ اور‘ ہے جبکہ سب سے چھوٹا افسانہ’صحرامیں بھٹکتی چڑیا‘۔
              بعض قارئین کو یہ اعتراض ہوسکتا ہے کہ ِاس الیکٹرانک اور سوشل میڈیاکے عہد میں،جبکہ کتابیں پڑھنے کا رُجحان مایوسی کی حد کو چھوٗ رہا ہے، اتنے طویل طویل افسانے پڑھنے کا گراں بار کون اٹھائے؟یہ سوال اپنی جگہ درست سہی،لیکن ڈاکٹر شاہد جمیل کے افسانوں کی قرأت سے گراں باری کا بھرم ٹوٹ جائے گا،کیونکہ اِن کے افسانوں کا ڈکشن نہ صرف دلکش ہے بلکہ بے حد متاثرکن بھی ۔ تحریر میں اتنی چاشنی ہے کہ افسانہ ختم کرنے کے بعد اُس کے ختم ہوجانے کا شدّت سے احساس ہوتاہے۔ ذہن ودل کے کسی گوشے میں یہ خواہش جاگزیں رہتی ہے کہ ابھی افسانہ ختم نہ ہوتا تو اچھا تھا۔ یہ اُن کے افسانوں کا باطنی حسن ہے۔
              ہم جب ڈاکٹر شاہد جمیل کے افسانوں کے بطن میں اُترتے ہیں تو کچھ مزید اوصاف نظر آتے ہیں۔ اُنہوں نے معاشرتی رسم ورواج ، روایات اور لسانی تہذیب کا مشاہدہ گہرائی سے کیا ہے۔ اِسی لئے وہ اپنے افسانوں میں اپنے کردار کی زبان کا بہت خیال رکھتے ہیں۔ یعنی جس ماحول کا کردار چنتے ہیں، اُسی ماحول کی مناسبت سے زبان کا استعمال کرتے ہیں،خصوصاً بہار کے مختلف علاقوں کے ۔ ٹھیٹھ ہندی الفاظ کو چست درست اور بڑی مہارت سے برتتے ہیں۔جملے برجستہ استعمال کرتے ہیں ۔ مکالموں میں الفاظ کی شمولیت اورپیوندکاری میں تصنع کا شائبہ تک نہیں ہوتا ،بلکہ فطری
              محسوس ہوتی ہے۔
              دل کو چھوٗ لینے والے کئی کئی مکالمے اُن کے سبھی افسانوں میں ملیں گے۔ ڈاکٹر شاہد جمیل متاثر کن تمثیلات و تشبیہات اور بامحاورہ فقروںکے توسل سے قارئین کے دل و ذہن میں اُتر جانے کا ہنر جانتے ہیں۔چند خوبصورت اور دل نشیں جملے اور فقرے ملاحظہ فرمائیں۔
              ٭’’بے اولاد انسان کی زندگی بھی بے چاند آسمان کی طرح سونی اور اُداس ہوتی ہے۔‘‘(جالے میں پھنسی مکڑی)
              ٭’’زمین اور آدمی حالات سے سمجھوتہ کر لیتاہے۔‘‘(گردشِ ایّام)
              ٭’’رورو کر لوگوںکی آنکھیں ناکارہ نہر سی خشک ہوچکی ہیں۔‘‘(مردم گزیدہ)
              ٭’’سمجھتے کیوں نہیں، زمین اور عورت بیج رکھ نہیں پاتی۔‘‘(دست وبازو)
              ٭’’ریشمی دھاگے میں غلطی سے بھی گرہ پڑجائے تو وہ گانٹھ کھولے نہیں کھلتی۔۔۔۔‘‘(مہاجر)
              ٭’’پردیس میں تو اپنوں سے بڑھ کر پیسے ہی کام آتے ہیں۔‘‘(اپنے پرائے)
              ٭’’کوئلے کی کان سے نکلا مزدور ہو یا انجینیئر ، دونوں کے چہرے سیاہی مائل ہوتے ہیں، چلّر کے ڈر سے لنگوٹ نہیں پھینکا جاتا۔‘‘(ایک جنگ اور)
              ٭’’بیٹا!وقت ہر زخم بھر دیتاہے۔ بیوی کے بغیر جوانی کاٹی جاسکتی ہے ، بڑھاپا نہیں۔‘‘ (تہی دست)
              ٭’’رضّو! مردسوئی سا اور عورت دھاگے سی ہوتی ہے ، جو کنبے کو جوڑتی رہتی ہے۔‘‘(تھوٗ تھوٗ)
              ٭’’تڑپ اور کشش بنائے رکھنا ، اڑتی پتنگ کو قابو میں رکھ کر اڑانے جیسا کٹھن ہے۔۔۔۔‘‘(داغ)
              ٭’’پھر اُسے ماں بابوجی سے زیادہ دادی ماں کی چنتا ستانے لگی کہ وہ ٹوٹے سپنے کی کرچیوں سے اپنے وجود کو لہولہان کر لیں گی۔‘‘(محبت کا صلہ)
              ٭’’کولہو کا بیل چلتا دن بھر ہے،لیکن پہنچتا کہیں نہیں۔‘‘(اَبابیل کی ہجرت)
              میںنے ہر افسانے سے صرف ایک ایک فقرہ بطور نمونہ آپ کے سامنے پیش کیا ہے۔ورنہ اِس طرح کے بے شمار دل نشیںاور ذہن کو جھنجھوڑنے والے فقرے پوری کتاب میں بھرے پڑے ہیں۔ 
              ڈاکٹر شاہد جمیل تشبیہات وتمثیلات کے بادشاہ ہیں۔ اُن کے تمام افسانوں میں بڑے مناسب، دل نشیں اور حسبِ حال ضرب الامثال، استعارے ملیں گے ، جو کہانی میں حسن پیدا کردیتے ہیں۔وہ منظر کشی پر اُترتے ہیں تومنظر کے ایک ایک جز وکو اُبھارکر رکھ دیتے ہیں۔گرچہ کسی کسی افسانے میں منظرکشی کی ضرورت نہیں ہوتی، مگر اِس سے افسانے کے حسن میں اضافہ ہوجاتاہے۔
              ’ایک جنگ اور‘ محکمہ جاتی بدعنوانیوں پر مبنی ایک معیاری اور ماسٹر پیس افسانہ ہے۔ اِسی افسانے سے،بانگی کے طور پر ایک اقتباس ملاحظہ فرمائیں۔ اسسٹنٹ اسٹیشن ماسٹرکے ذریعہ صاف کرائے ویٹنگ روم کے حمام میں جب مسافر اَفسر ضروریات سے فارغ ہونے کے لئے جاتا ہے۔ 
              ’’انتظام تازہ تھا۔ فنائل کی بوٗ تیز تھی۔ صابن کی ٹکیہ کے ساتھ شیمپو کا منی پاؤچ بھی رکھا تھا۔ جگہ جگہ مکڑیوں کے جالے تھے، جن میں چوکنّی مکڑیاں اور کیڑے مکوڑوں کی جھولتی کھوکھلی لاشیں تھیں۔ چھپکلیاں گھڑیال سی بے خوف پڑی تھیں۔اینٹ گھسا کر روشندان کو بند کردیا گیاتھا۔ ناکارہ فلش کے اوپر بنا مینے کا گھونسلہ ویران تھا۔ مستقل بندکھڑکی پر نیم سوختہ آنسو بہائے اُنگلی بھر لمبا کینڈل سر کٹے بت کی طرح ایستادہ تھا۔ رفع حاجت کے دوران منچلوں نے دیوار پر انسان وحیوان کے جنسی اختلاط کی تصاویر بنا کر فحش جملے بھی رقم کردیئے تھے۔ اُن پر چونا پھیرا گیا تھا ۔ پھر بھی تصاویر و تحریر نظر آرہی تھیں۔ پلاسٹک کی گھناؤنی بالٹی، موبل کا سربریدہ ڈبّہ، ہینڈل ٹوٹا جگ اور کونے میں پیک و کھینی کی غلاظت کے داغ دھبوں سے شدید کراہت پیداہوئی۔ کسی طرح ضروریات سے فارغ ہوکر میں لوٹ آیا۔‘‘
               منظر کشی میں جزویات نگاری کی ایک اور مثال کا ناظرہ کریں۔
              ’’رانی برآمدے اور احاطے کے بلبوں کو جلا کر نکلی تھی۔ راجکماری کو فلیٹ خوبصورت لگا۔ لت دار پھولوں سے ڈھنکا محراب نما گیٹ جاذب نظر تھا۔ اس کے دائیں شمی اور بائیں ہارسنگار کا پیڑ تھا۔رجنی گندھا اور رات کی رانی کے پودوں کے پاس پانی بھرا لکڑی کا تسلا رکھا تھا۔ رات کی رانی کا گھنا پودا تھوڑی تھوڑی دیر پر اپنی خوشبو اسپرے کررہاتھا۔ چھوٹے سے صحن میں چھتری لگا ایک جھولا بھی تھا۔ سجاکر رکھے گئے گملوں میں طرح طرح کے پھول اور کئی قسم کے کیکٹس لگے تھے۔ برآمدے میں گوریّے کے گھونسلے تھے۔ اُسے لگا کہ فضا میں صحرا جیسی خاموشی ، سوناپن اور ہوا میں اداسی گھلی ملی ہے۔‘‘ (صحرا میں بھٹکتی چڑیا)                                                                       
              ڈاکٹر شاہد جمیل کے زیادہ تر افسانوں میں کہانی پن کی کمی کا ملال  ہوتاہے، لیکن وہ اپنے دلچسپ جملوں ، رومانی اور دل گداز مکالموں ، معنی خیز فقروں کے ذریعہ اِس ملال کو سبو تاژ کردیتے ہیں۔اُن کے بعض افسانو ں کاکینوس بہت چھوٹا ہے، لیکن دل نشیںاقتباسات اور ’سنہری اقوال‘ قسم کے مکالموں اور ماجرا سے متعلق یا غیر متعلق منظرکشی کی رنگ آمیزی سے افسانے کے منظر نامے کو شوخ اور دلفریب بنا دیتے ہیں ۔موصوف پلاٹ اور ماجرا سازی سے بھی افسانوں میں جان پیدا کردیتے ہیں ، جس کا سب سے بڑا فائدہ تو یہ ہوتا ہے کہ کہانی پن کے فقدان کا عیب قاری کی نظروں اور
              ذہن سے یکسر محو ہوجاتاہے۔ اِس کی بین مثال ’مہاجر‘،’گردشِ ایّام‘،’تحفہ‘،’ صحرامیں بھٹکتی چڑیا‘،’ تھوٗ تھوٗ‘ اور’ محبت کا صلہ‘ وغیرہ ہیں۔
              مجموعے کے تقریباً ہر افسانے میں انسانی دردوالم ایک مشترک امر ہے۔ کسی افسانے میں ضعیف ماں کے سینے میں بیٹے اور بہو کی بے التفاتی کا درد ہے تو کہیں دادا دادی کے دل میں اپنے پوتے اور پوتی کی بے توجہی کا ،کہیں شوہر کوبیوی کی بے وفائی کا غم ہے تو کہیں بیوی کو اپنے شوہر کی   بے راہ روی کا ۔کسی کواپنے گوہر کے لٹ جانے کا حزن وملال ہے تو کسی کو فرقہ وارانہ فساد میں اپنے لعل کے کٹ جانے کا الم ہے۔ کوئی اپنوں کے مکروفریب سے غمزدہ ہے تو کسی کو اپنی آبروکے کھو جانے کا حزن وملال ہے۔ مجموعے میں صرف ایک افسانہ’مردم گزیدہ‘ ایسا ہے، جس سے قاری کو تھوڑا ذہنی سکون حاصل ہوتا ہے کہ اِس افسانے میں دو الگ الگ مذاہب اور خاندانوں کے درمیان بے مثال محبت ، بھائی چارگی ، یگانگت کا نقشہ کھینچاگیا ہے۔ یہ فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی لاجواب کہانی ہے۔یہ دراصل بہار کے ایک ہندو اور کشمیر کے ایک مسلمان خاندان کے مابین باہمی محبت آمیز رشتوں کی کہانی ہے۔یہ ایک پُر از واقعات افسانہ ہے۔اِس افسانے کو دیگر ہندوستانی زبانوں کے رسالوں میں بھی شائع ہونا چاہئے تاکہ اِس میںپیش کیا گیااخوت ومحبت کا سبق وطنِ عزیز کے ہر فرد کے دل میں جاگزیں ہوجائے ۔اِس افسانے سے چند خوبصور ت اور بامعنی جملے ملاحظہ فرمائیں۔٭’’مظلوموں کے آنسو رواں نہیں رہتے تو ڈل جھیل کب کا سوکھ چکا ہوتا۔‘‘ ٭’’وادی کی ہریالی سیاہی مائل ہونے لگی تھی۔ پرندے قبل از وقت بسیرے کو لوٹ رہے تھے ۔ ‘‘(یہ جملہ کشمیر کے حالات پر بے مثال تبصرہ ہے)
              ہمارے چند نادان سیاستدانوں اور کچھ ناسمجھ نوجوانوںکی ذہنیت نے کشمیر کے حالات کو اتنا دگرگوں ، اتنا الم انگیز بنادیا ہے کہ اِس جنت ارضی کا ہر فرد ہمہ وقت خوف زدہ اور اندیشوں کا شکار رہتاہے۔ وہاں کے افراد کی نفسیات کا بڑا اچھا نقشہ کھینچا گیاہے۔ اِس افسانے میں کہ جب ڈاکٹر نے زیرِ علاج مریض کے تیماردار سے یہ کہا ’’گولی چلتی رہے گی۔اب آپ جایئے۔‘‘ تو محض ’’گولی چلتی رہے گی۔‘‘کے الفاظ سن کر کھلونے بیچنے والا بدحواس ہوگیا اور کھلونوں کی قیمت لیے بغیر بھاگ گیا،جب کہ وہ دوا کی گولی کا ذکر تھا۔ڈاکٹر صاحب کی بیوی، عائشہ جمال اُسے پکارتی رہیں، لیکن وہ رُکا نہیں اور بلند آواز میں بولا۔’’بہن!زندہ رہا تو پیسے لے جاؤں گا، نہ رہا تو میری طرف سے بچوں کا تحفہ۔ گھر میں جوان بہو بیٹیاں ہیں۔۔۔۔‘‘
              پھیری والے کے اِن جملوں نے کشمیر کی موجودہ جانکاہ صورتحال کی پوری تصویر نگاہوں کے سامنے لاکر رکھ دی ہے۔
              کہانی کی یہ سطور پڑھ کر سعادت حسن منٹو کامشہور زمانہ افسانہ ’کھول دو‘ یاد آگیا، جس میں ڈاکٹر کے محض ’کھڑکی کھول دو‘کے الفاظ سن کر فسادیوں کی ستائی ہوئی،مظلوم لڑکی نے اپنی شلوار کھول دی تھی۔اِن ’کھول دو‘کے دو الفاظ نے منٹو کی اِس کہانی کو سمجھنے کے لیے ذہن کے دریچے کھول دیے تھے۔ 
              ڈاکٹرشاہد جمیل کے اِس افسانے میں’گولی چلتی رہے گی‘ فقرہ سن کر کھلونے والے نے جس ردّعمل کا مظاہرہ کیا ہے، اُس نے کشمیر کے حالات قاری کے سامنے کھول کر رکھ دیے ہیں۔ میری نگاہ میں یہ حاصلِ مجموعہ افسانہ ہے۔
              ایک اور افسانہ ’اپنے پرائے‘پراز واقعات ہے۔اِس افسانے میں بھی پیغامِ انسانیت ہے۔ ایک مسلمان مالک کا اپنے ہندو ملازم کے تئیں پدرانہ شفقت کی دل کو چھو ٗ لینے والی کہانی ہے۔اگر ڈاکٹر شاہد جمیل کی کردار نگاری کا جائزہ لینا مقصود ہوتو اِس کہانی کے بشیر ماما کے کردار کونگاہ میں ضرور رکھا جائے ۔ اُن جیسے لوگ آج بھی زمین پر بستے ہیں، جن کی وجہ سے انسانیت زندہ ہے۔
              فرقہ وارانہ فسادات گویا اب ہمارے وطن عزیز میں، ہماری تہذیب اور روزمرہ زندگی کے جز ولاینفک بن گئے ہیں۔ فسادات انسانی زندگیوں میں کن کن المناکیوں سے ہمکنار کرتے ہیں، اُن کے بہت ہی دردناک مناظرافسانہ نگار نے’ دست و بازو‘ میں دکھائے ہیں۔
              رضی حیدر ،جو اپنی بیوہ ماں اور بیوی کی تمام اُمیدوں کا مرکز ہے اور جو گھر کا اکیلا کماؤ پوت ہے، عروس البلاد ممبئی میں ملازم ہے۔ جب ممبئی میں علاقائی منافرت کی بنیاد پر فساد برپا ہوتاہے تو ظالموں نے اُس کے دونوں ہاتھ کاٹ ڈالے۔ انسانیت پر ایقان رکھنے والاایک مقامی ڈاکٹر اُسے بغرض علاج اپنے اسپتال میں داخل کرلیتاہے۔ فساد کی خبر سن کر گاؤں میں ماں اور بیوی طرح طرح کے اندیشوں اور فکرمندیوں میں مبتلا ہوجاتی ہیں۔ جب ایک رات رضی حیدر گھر واپس آتاہے، تو اُس کی حالت دیکھ کر ماں اور بیوی کی آنکھوں میں اندھیرا چھا جاتاہے،لیکن جب رات میں دونوں میاںبیوی اپنے کمرے میں ملتے ہیں تو بیوی ہی بوس وکنار کی پہل کرتے ہوئے کہتی ہے کہ اب میں دست درازی کروں گی ۔۔۔۔آپ کا دست و بازو میری کوکھ میں پل رہا ہے۔ ( یعنی آ پ کے دونوں دست و بازو کٹ گئے تو کیا غم ہے)افسانے کا آخری منظر بہت دل پذیر اور حوصلہ مند ہے۔ یہ وفا شعار بیوی کی بے پناہ محبت اور قربانیوں کا نقطۂ عروج ہے۔ بہت جذبات افزوں اور پر اثر افسانہ ہونے کے باوجود چند اشکالات ذہن میں پید اہوتے ہیں۔ افسانہ’صحرا میں بھٹکتی چڑیا‘ قارئین کا ذہن اپنی طرف مبذول کرتاہے۔ 
              ڈاکٹر شاہد جمیل کے دیگر افسانوں کے علی الرغم اِس افسانے کا نقطۂ عروج تھوڑا چونکانے والاہے۔ جب قاری افسانے کے آخری چند جملوںکی قرأت کرتاہے تو رانی
              (اصل کردار) کی نفسیات کی آگاہی ہوتی ہے۔ 
              ٭کتّا رانی سے لاڈ پیار کرتے کرتے اچانک راجکماری کی طرف لپکا اور اس کے مخصوص عضو کو عجیب طرح سونگھتے ہوئے ’’کوں کوں ۔۔۔۔۔آں ‘‘کی آواز نکالنے لگا۔
              رانی بھڑک اُٹھی۔ وہ شیرو کا کان پکڑکے اُسے بے رحمی سے کھینچتے ہوئے بولی،’’یہ کیا؟ مردوں جیسی حرکت۔۔۔۔‘‘
              وہ جلدی سے اُس کے پٹے میں زنجیر کا ہُک لگا کر مشکوک نگاہوں سے گھورتی ہوئی راجکماری سے بولی،’’چلو !پہلے فریش ہولیتے ہیں۔۔۔۔‘‘
              راجکماری نے قطع کلام کرتے ہوئے پوچھا۔’’دیدی !تم اکیلی رہتی ہو؟‘‘
              ’’نہیں شیرو میرے ساتھ رہتاہے۔‘‘
              دراصل اِس افسانے میں رانی کے مامو زاد بھائی نے سوئی ہوئی حالت میں ، اُس کی آبرو تارتارکردی تھی۔ اِس جانکاہ حادثے کا اثر اُس پر اتنا گہرا ہوا کہ اُس نے اپنا گھر تیاگ کرملازمت کے وسیلے سے دلّی کی بودوباش اختیار کرلی۔ اپنی تنہائی رفع کرنے کی غرض سے اُس نے ایک کتا پال لیا، جس سے وہ اپنی جنسی آسودگی حاصل کرتی تھی۔گناہ کسی نے کیا اور سزا کسی اور کو مل رہی ہے ۔ یہ سزا بھی خود اختیاری ہے، جو کسی طور بھی پسندیدہ نہیں ہے۔ ہم اِسے ایک نفسیاتی افسانہ کے زمرے میں رکھ سکتے ہیں۔
              ’نجات ‘ اور’ تہی دست‘کوئی خاص تاثر نہیں دیتے۔ دونوں عام سی کہانیاں ہیں۔ لیکن معمولی کہانی کو بھی ڈاکٹر شاہد جمیل اپنے اسلوب اور ڈکشن سے غیر معمولی بنادیتے ہیں۔ اِن دونوں افسانوں میں اُنہوں نے اپنے اُسی ہنر کا استعمال کیا ہے۔
              ’محبت کا صلہ‘ بھی قابلِ ذکر افسانہ ہے۔ اِس میںکہانی پن اپنی شدت کے ساتھ موجودہے۔ کہانی کا انجام بہت پرسوز اور دردبھراہے۔ دراصل یہ افسانہ بزرگ افراد کا اپنی تہذیب ، قدیم رسم وروایت سے بے پناہ انس رکھنے کی ، اپنی اولاد و اخلاف سے بے پناہ اور بے لوث محبت کرنے کی ایک متاثرکن کہانی پر مبنی ہے۔نئی نسل اور نئی تہذیب کی پروردہ اولاد اپنے مخلص اور جان نچھاور کرنے والے اسلاف کے ساتھ کیسا رویّہ رکھتی ہے؟ اِس المیے کو افسانے کا روپ دیا گیاہے۔
              ٹائٹل افسانہ ’ابابیل کی ہجرت‘بھی ایک لاجواب افسانہ ہے۔ اپنے اسلاف کی یادوں اور یادگاروں سے چمٹے رہنے والے بزرگ افراد کے جذبات و احساسات کی اور اپنی معاشرت کے رنگ ڈھنگ کے ساتھ نباہ کرنے والے نوجوان نسل کے عزا ئم کی متاثر کن کہانی ہے۔
              ’ابابیل کی ہجرت‘انسانی جذبوں اور رشتوںمیں شیرینی گھولنے والا افسانہ  ہے۔ افسانے کے مرکزی کردا ر ظفر سے جب اُس کی ماں چیخ کر کہتی ہیں۔’’نہیں چاہئے مجھے فلیٹس اور دکانیں۔ یہ حویلی ہی میرے لئے جنت نظیر ہے ۔ یہاں تمہارے باپ کی یادیں اور اُن کی چہیتی اَبابیلیں ہیں۔ مجھ سے جینے کا سہارا مت چھینوتم لوگ…‘‘تو دل میں ایک ہوک سی اٹھتی ہے۔ بیوی اپنے مرحوم شوہر کی یادوں کو سمیٹ کر اپنی آغوش میں رکھنا چاہتی ہے۔وہی یادیں تو اُس کے جینے کا سہارا ہوتی ہیں۔ گرچہ مرحوم شوہر کی حویلی بیوی کے کسی کام کی نہیں،لیکن موت کے بعد شریکِ حیات سے تعلق رکھنے والی ہر چیز ساری دنیا سے پیاری ہوجاتی ہے۔اِس افسانے میں مصنف نے بزرگ افراد کے تجربے اور مشاہدے کے توسل سے نئی نسل کی تربیت بھی کرنے کی کوشش کی ہے۔ملاحظہ کیجئے: 
              ٭’’پوتاپوتی کو پہلو میں بٹھا کر دادی بولیں۔’’یہ واقعہ ایسانہیں ، جو پہلی بار اور صرف تمہارے ساتھ ہوا ہے۔ یتیموں کے منہ کا نوالہ چھین کر کھانے والے ہر زمانے میں رہے ہیں۔ اچھا ہی ہوا کہ پہلے قدم پر ٹھوکر لگ گئی۔ ٹھوکر کھایا انسان چوکنّا رہتاہے۔‘‘
              ٭’’دلدل میں پھنسا آدمی قوت سے نہیں ،حکمت سے نکلتاہے۔‘‘
              مرحبا!بددیانت معاشرے پر کتنا سچا تبصرہ ہے اور کتنی حکیمانہ باتیں ہیں۔ کہانی کے اُسلوب، تھیم، پلاٹ،ٹریٹمنٹ، جملوں کی آرائش، الفاظ کے انتخاب، استعاروں کے استعمال سے افسانہ نگار کی مشّاقی کا اندازہ ہوتاہے۔ سچ کہوں،مجھے اِن پر رشک آتا ہے۔ البتہ اُنہیں ایک مخلصانہ مشورہ دوں گاکہ کہانی کو طویل بنانے کی غرض سے بیجا منظر کشی اور مکالموں سے پرہیز کیا کریں۔ اختصار افسانے کے حسن کا ضامن ہوتاہے۔
              اُن کے افسانوں میں ایک بات بہت واضح طور پر محسوس ہوتی ہے کہ ان کے کردار باربارماضی کی طرف پلٹ آتے ہیں۔پس منظر یا ماضی کا بیان اُن کے تمام افسانوں کا طرئہ امتیاز ہے۔ کوئی افسانہ Flash Backسے خالی نہیں ہے۔ اوربار بارپلٹ آنے کے عمل میں اُن سے یہ سہو ہوجاتاہے کہ کبھی واحد متکلم(میں) تو کبھی واحد غائب(وہ) کا صیغہ استعمال کربیٹھتے ہیں۔یہ سہو ان کے کئی افسانوں میں نظرآتا ہے۔
              اگر ادب کمزور ہے تو زبان کا کچھ زیاںنہیں ہوتا۔ لیکن زبان میںخامی ہوئی، تو ادب اور ادیب دونوں کا وقار مجروح ہوگا۔٭٭٭

              Previous Post
              Next Post

              0 comments: